واشنگٹن، تہران (رپورٹنگ آن لائن)امریکی صدر نے ایک بار پھر ایران کو متنبہ کیا ہے کہ جلد از جلد جنگ بندی معاہدہ کرلے تو اس کے حق میں بہتر ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے زور دے کر کہا ہے کہ اگر جلد امن معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کو بہت برے وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جو ان کے قریب پہنچ چکا ہے، ایران کے حق یہی بہتر ہے کہ وہ جلد از جلد ہمارے ساتھ امن معاہدہ کر لے۔ مزید تاخیر برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں۔
دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے مذاکرات کے حوالے سے پیغامات موصول ہوئے ہیں لیکن ہمیں اب بھی ان کے اصل ارادوں پر شدید بداعتمادی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران امریکا نے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ ایران پر حملے کیے جس کے باعث یقین نہیں کہ امریکہ سفارتی حل کے لیے واقعی سنجیدہ ہے۔
فرانسیسی نشریاتی ادارے کو ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچے، امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک تصویر بھی شیئر کی ہے، جس پر لکھا ہے کہ یہ طوفان سے پہلے کا سکون تھا۔
صدر ٹرمپ کی شیئر کردہ تصویر بظاہر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے جس میں ٹرمپ کو کیمرے کی جانب انگلی اٹھائے دکھایا گیا ہے جبکہ ان کے اردگرد طوفانی سمندر میں جنگی بحری جہاز موجود ہیں، کئی جہازوں پر ایرانی پرچم بھی لہراتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ایران سے متعلق گفتگو میں کہا تھا کہ ہر بار جب وہ ڈیل کرتے ہیں تو اگلے روز ایسا لگتا ہے کہ ہماری بات چیت ہوئی ہی نہیں، ان کے ساتھ کچھ مسئلہ ہے، اصل میں وہ پاگل ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے مگر دوسری اقوام کے کہنے پر جنگ بندی کی، یہ جنگ بندی پاکستان پر نوازش تھی، پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں شاندار شخصیات ہیں، انہوں نے مجھے حملے سے روک دیا اور کہا کہ ہم ڈیل کروا دیں گے۔
قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام 20 سال کیلئے معطل کرنے پر اعتراض نہیں لیکن ایران کا عزم حقیقی ہونا چاہیے، چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی اور تائیوان معاملے پر بات چیت ہوئی۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، مجھے نہیں نہیں لگتا تائیوان پر کوئی تنازع ہونے جا رہا ہے، فی الحال تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے کی منظوری نہیں دی۔









