چینی میڈیا 14

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے، چینی میڈیا

اسلام آ باد (رپورٹںگ آن لائن) وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک اہم اعلان کیا کہ طویل اور نہایت اہم مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران نے امن معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے، اور پاکستان 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس معاہدے کی باقائدہ دستخط کی تقریب کی میزبانی کرے گا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ ایران کے دوران، انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور دیگر رہنماؤں کو وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے امن مذاکرات کی بحالی سے متعلق خصوصی پیغام پہنچایا۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کے علاقائی امن میں تعمیری کردار کو سراہا اور پاکستان کو قریبی اور قابل اعتماد شراکت دار قرار دیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر پر متعدد ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا، اور اسے مشرق وسطیٰ میں استحکام اور پائیدار امن کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، اور پاکستان کے مصالحتی عمل میں کلیدی کردار کی بھی بھرپور ستائش کی جا رہی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ چین امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے مرحلے کی مفاہمتی یادداشت پر اتفاق رائے کا خیرمقدم کرتا ہے اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ چین کو امید ہے کہ امریکہ اور ایران مقررہ وقت پر پہلے مرحلے کےمعاہدے پر دستخط کریں گے، اور متعلقہ فریق امن کا راستہ اپناتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں گے۔ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

بلا شبہ، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے ہی چین اور پاکستان کی جانب سے پائیدار امن کے حصول کی کوششیں کبھی نہیں رکیں، دونوں ممالک نے سفارتی ثالثی میں اپنی منفرد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کے لیے سازگار ماحول اور قیمتی مواقع فراہم کیے، جسے عالمی برادری نے بھی سراہا ہے۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ہی سے چین مسلسل جنگ بندی اور امن کے لیے کوشاں رہا ہے۔

چین کے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کی روح کے مطابق، چین، انصاف اور حق پر مبنی موقف پر قائم رہتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے اور بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔یہ نہ صرف پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی تبدیلی کا اہم اشارہ بھی ہے۔

پاکستان کی اس کامیابی کی بنیادی وجہ اس کے سفارتی تعلقات میں منفرد “دوہرے اعتماد کا راستہ” ہے۔ جب امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے کا فقدان تھا اور باہمی اعتماد انتہائی کم ترین سطح پر تھا، تو اسلام آباد نے تہران کے ساتھ اپنے مذہبی و ثقافتی روابط اور امریکہ کے ساتھ طویل المدتی تعاون کو استعمال کرتے ہوئے ایسا ثالث بنا جو دونوں فریقوں کے دروازے کھٹکھٹا سکتا تھا۔امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے اس کامیاب ثالثی کے ذریعے پاکستان نے اپنی بین الاقوامی حیثیت، علاقائی اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک اہمیت کو بلند کیا ہے، جس سے پاکستان کو تین اہم فائدے پہنچے۔

پہلا، اس سے پاکستان کے بین الاقوامی سفارتی تعلقات کی مکمل تشکیل نو ہوئی اور اسے “علاقائی امن کا مرکزی ثالث” تسلیم کیا گیا۔ طویل عرصے سے پاکستان کا بین الاقوامی تاثر جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل کشمکش اور دہشت گردی کے خلاف تعاون تک محدود رہا ہے، اور اس کی بین الاقوامی گفتگو میں شرکت محدود تھی۔ اس بار امریکہ اور ایران جیسے دو برسرِ پیکار ممالک کے درمیان مذاکرتی عمل میں فعال کردار ادا کر کے پاکستان نے خود کو باضابطہ طور پر “عالمی سطح کے اہم تنازعہ حل کرنے والے ملک” کی صف میں شامل کر لیا ہے، جس سے ایک بڑی غیر جانبدار، قابل اعتماد اور ذمہ دار علاقائی قوت کے طور پر اس کا تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔

دوسرا، اس سے پاکستان کی اسلامی دنیا میں مرکزی قیادت کی حیثیت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس ثالثی میں مشرق وسطیٰ کی اہم اسلامی ریاستیں بھی شامل تھیں، اور اس نے شیعہ و سنی دونوں کے مفادات کا توازن رکھا۔ پاکستان کو نہ صرف ایران کا گہرا اعتماد حاصل ہوا بلکہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسے ممالک کی بھی توثیق ملی۔ اپنی غیر جانبدار پوزیشن اور موثر ثالثی کی صلاحیت کے ذریعے پاکستان نے اسلامی دنیا میں امن و مفاہمت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا اور خود کو علاقائی تنازعات اور اہم سفارتی امور پر مکالمے کے ایک اہم مرکز کے طور پر منوایا ہے۔ ماضی میں اسلامی دنیا میں سفارتی اقدامات کا محور مشرق وسطیٰ کے ممالک ہوا کرتے تھے۔
تیسرا ، اس سے پاکستان کی بڑی طاقتوں کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت مضبوط ہوئی ہے اور بیرونی معاملات میں اس کی پوزیشن بھی بہتر ہوئی ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے سفارتی تعلقات میں ایک طرف جھکاؤ تھا، امریکہ، ایران اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات مختلف تھے۔ اس ثالثی نے امریکہ کو پاکستان کی ناقابل تبدیل اہمیت کا احساس دلایا اور دوطرفہ عملی تعاون کو مضبوط کیا، جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان اسٹریٹجک اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔

پاکستان کی اس کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ علاقائی ممالک خود اپنے معاملات کی قیادت اورپائیدار امن کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ اس سے بیرونی طاقتوں کی جانب سے علاقائی ڈھانچے پر یکطرفہ کنٹرول کی صلاحیت کمزور ہوئی ہے اور خطے کی جیو پولیٹیکل کشمکش بتدریج یکطرفہ بالادستی کے رجحان سے نکل کر “علاقائی خود مختاری اور کثیر قطبی توازن” کی جانب بڑھ رہی ہے، جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں طویل مدتی امن، استحکام اور تعاون کی بنیاد فراہم کرسکتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں