اسلام آبا د(رپورٹنگ آن لائن)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب گامزن ہیں اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی پالیسی اپنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی کشیدگی میں کمی اور امن کے فروغ کیلئے پاکستان نے تاریخی اور مثبت کردار ادا کیا جسے عالمی برادری قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ امت مسلمہ اور خلیجی ممالک پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہے ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت پاکستان کے موثر سفارتی کردار سے خائف ہے، تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور موثر جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحدوں پر امن کا خواہاں ہے اور افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران افغان عوام کو پناہ، تعلیم اور روزگار سمیت مختلف سہولتیں فراہم کیں اور اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف کر رہی ہے اور ملکی قیادت کے موثر اقدامات کے باعث پاکستان کا عالمی وقار مزید بلند ہوا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
قبل ازیں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کرکے 3500 ارب کے بوجھ کوکم کیا ہے، ماضی میں اس حوالہ سے کوششیں ناکام ہوئی تھیں، یہ معاہدے 35 سال کی مدت میں ہوئے اس لئے اس کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، ماضی میں حالات کے مطابق کیپسٹی ادائیگیوں کے معاہدے کرنے پڑے تھے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ مزید بات چیت کے لئے آنے والے دنوں میں بھی کوششیں جاری رہیں گی مگر کسی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے، کسی بھی حکومت پرتنقید کرتے ہوئے یاد رکھنا چاہئے کہ ہم خود تواس گناہ میں ملوث تونہیں رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہاکہ وزیراعظم ایوان میں داخل ہوئے ہیں اور اپوزیشن سے ملے ہیں کیا ماضی میں ایسا ہوا تھا، شہباز شریف نے بطور قائد ایوان میں نئی روایات کو جنم دیا ہے، شہباز شریف اورعاصم منیر نے جن نئی روایات کوجنم دیا ہے اس کو سراہنا چاہیے،ماضی میں اس ایوان میں جس طرح کارویہ اپنایاگیا اورجس زبان کااستعمال ہوتا تھا وہ سب کویادہے۔









