“انکوائری سے پہلے آپ نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں”ایم آر اے ڈی ایچ اے کی ڈائیریکٹر موٹرز کو دھمکی

رپورٹنگ آن لائن۔۔۔

ایم آ ر اے ڈی ایچ اے لاہور ندیم یوسف کرپشن اور جعلسازی کے الزامات کے تحت انکوائری لگنے اور آڈٹ کے حکم پر بوکھلا اٹھا۔ڈائیریکٹر موٹرز لاہور نعمان خالد کو دھمکی دے ڈالی۔

ڈائیریکٹر کو تحریری درخواست دینے یا فون کرکے شکایت نوٹ کروانے کی بجائے ندیم یوسف نے محکمے کے وٹس ایپ گروپ میں کھلے عام voice note سینڈ کرتے ہوئے کہا
“میں ڈائیریکٹر نعمان صاحب سے مخاطب ہوں، سر میں نے مناسب سمجھا ،گروپ میں میں میسج کروں تاکہ سب کو پتا چل جائے۔۔۔۔۔۔(چند باتوں کے بعد)آپ کے آفس میں چند شرپسند عناصر ہیں، میں بلکہ کہوں گا بہت بے غیرت قسم کے بندے ہیں”
پھر سنگین نوعیت کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا “اس دفعہ میں ان کو کچا چباونگا۔گروپ میں سارے ایم آر اے سنیں گے۔
سر۔۔۔۔اللہ واسطے نوکری نہیں کررہے۔۔۔کم ازکم ہمیں تو سن لیں۔۔۔ہمیں بلا کر پوچھ لیں۔۔۔انکوائری آپ نے لگا دی یے۔۔۔ سر۔۔۔۔یہ تو کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ہماری ریپوٹیشن پہلے پوچھ لیں۔۔۔میں کس کیٹیگری کا بندہ ہوں۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔

ذرائع کے مطابق ایم آر اے ڈی ایچ اے ندیم یوسف کالز کرکے دیگر ایم آر ایز کو مجبور کرتا رہا کہ وہ گروپ میں وائس نوٹ سینڈ کریں اور ڈائیریکٹر موٹرز پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ انکوائری کے لئے قائم کردہ کمیٹی کو تحلیل کرتے ہوئے اپنا حکم واپس لیں۔
تاہم ذکا جیسے بعض ” درد مشترکہ” رکھنے والے ایم آر ایز نے بھی ندیم یوسف کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ندیم یوسف کے خلاف کرپشن اور جعلسازی کی تحریری درخواست دینے والے شہری پر وائس نوٹ کے ذریعے ذاتی حملے کئے۔

اور بعد ازاں لوگوں سے واویلا کرتا رہا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے وہ ندیم یوسف کے بہکاوے میں آ گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر ایم آر ایز نے ندیم یوسف کی باتوں میں آکر درخواست گزار کے خلاف کسی قسم کی لوز ٹاک کرنے اور ڈائیریکٹر کو دھمکی دینے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔

جس پر ندیم یوسف اپنی کرپشن اور جعلسازی کو چھپانے کے لئے ایسوسی ایشن اور یونین کو استعمال کرنے کے لئے تگ ودو کررہا ہے۔تاکہ ڈائیریکٹر کو اپنا آرڈر واپس لینے پر مجبور کر سکے۔

ادھر علم میں آیا ہے کہ ندیم یوسف کے خلاف جعسازی اور کرپشن کی تحریری درخواست دینے والے شہری نے ندیم یوسف کی مزیدکرپشن بے نقاب کرنے دیگر صوبوں میں پہلے سے رجسٹرڈ امپورٹڈ وہیکلز کو جعلسازی کرتے ہوئے دوبارہ لاہور میں رجسٹرڈ کرنے سمیت اس کی دیگر وارداتوں کو ہائی لائٹ کرنے اور اینٹی کرپشن و ایف آئی اے کو ندیم یوسف کے کارناموں سے تحریری طورپر آگاہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔