بیجنگ 47

” انسان آئے تو پرندے نہ گھبرائیں “: انسان اور فطرت کے تعلق میں یہ تبدیلی کیوں؟

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن)اگر آپ اتفاق سے ایسے شہر بیجنگ میں رہتے ہوں جو مہاجر پرندوں کی گزرگاہ پر واقع ہے، تو آپ محسوس کریں گے کہ پرندے اب انسانوں سے کم خوفزدہ ہو گئے ہیں۔

پارکوں میں جنگلی ہنس جھیل کے کنارے بے فکری سے گھومتے پھرتے ہیں۔ گھروں کی چھتوں کے نیچے ابابیلیں پچھلے سال کے گھونسلوں کی مرمت میں مصروف نظر آتی ہیں۔ میں نے خود ایک کبوتر جوڑے کو دیکھا جو ایک ریستوران کے باہر اپنا گھونسلا بنائے ہوئے تھا ،انسان اندر کھانا کھا رہے تھے اور وہ باہر آرام کر رہے تھے۔ ایک موقع پر میں نے پرندوں کے ایک جوڑے کو محض ایک دو میٹر کے فاصلے پر دیکھا۔ بیس منٹ گزر گئے، وہ درخت کے نیچے سکون سے دانہ چگتے رہے اور مجھ جیسے بڑے وجود سے بالکل بے خوف تھے۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ماضی میں پرندے انسان کو دیکھتے ہی فوراً اڑ جاتے تھے۔ یہ صرف ان کی فطری جبلت نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ انسان اور پرندے بقا کی جدوجہد میں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ پرندے اگر انسان کی اگائی ہوئی فصل کھاتے تو انہیں بھگایا جاتا، حتیٰ کہ وہ شکار بھی بن جاتے۔” انسان آئے تو پرندے نہ گھبرائیں “: یہ منظر کبھی صرف تصویروں میں دکھائی دیتا تھا۔

انسانوں سے “خوفزدہ پرندوں” سے لے کر “بے خوف پرندوں”تک، انسان اور فطرت کے تعلق میں خاموشی سے ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ اس تبدیلی کے پس منظر میں، ہمیں اس معجزے کا ضرور ذکر کرنا ہوگا جسے چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں سخت محنت سے تخلیق کیا ہے: مطلق غربت کا خاتمہ۔

ماضی میں انسان اور فطرت کا تعلق کشیدگی اور مقابلے پر مبنی تھا۔ مگر اب جب لوگوں کی زندگی بہتر ہو چکی ہے، لازمی تعلیم، بنیادی طبی سہولیات اور رہائش کی ضمانت حاصل ہو چکی ہے، تو انسان کو فطرت سے بے دریغ وسائل لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ لوگ اب اس بات سے بھی خوفزدہ نہیں کہ پرندے کچھ فصل کھا جائیں گے، اور یوں انسان اور فطرت کا تعلق زیادہ ہم آہنگ ہو گیا ہے۔

دیہی علاقوں میں یہ تبدیلی ایک اور گہری سوچ کی عکاس ہے۔ ماحولیاتی معاوضے کے نظام کے تحت جنگلات اور پرندوں کا تحفظ ایک باوقار پیشہ بن چکا ہے۔ دیہی سیاحت کے فروغ کے ذریعے خوبصورت ماحول اور حیاتیاتی تنوع براہِ راست معاشی فائدے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اب پرندے سیاحوں کو متوجہ کرنے کا منظر بن چکے ہیں، اور انسانوں کے لیے قابلِ حفاظت دوست بھی۔ انسان اور پرندے ایک دوسرے کے معاون بن چکے ہیں، اور اب ایک دوسرے کے رزق کے لیے حریف نہیں رہے۔

یہ بہتری چین کی دیہی احیاء کی حکمت عملی اور حکومت کے اس عزم کے بغیر ممکن نہ تھی کہ ہر شہری کی زندگی بہتر بنائی جائے۔ ترقی کی روشنی ہر گوشے تک پہنچانے اور ہر خاندان کو خوشحال بنانے کے لیے چین نے بے مثال اقدامات کیے۔ سنگین غربت زدہ علاقوں میں چین کی جانب سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نقل مکانی پر مبنی غربت کے خاتمے کی مہم چلائی گئی۔ لوگوں کو پہاڑوں، جنگلات اور صحراؤں کے کناروں سے نکال کر جدید بستیوں میں منتقل کیا گیا، جہاں اسکول، اسپتال اور فیکٹریاں قائم کی گئیں ۔

دشوار علاقوں میں لوگوں کی نقل مکانی ،مخصوص صنعتوں کی حمایت، طب، تعلیم اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات وغیرہ وغیرہ، یہ سب اقدامات مسلسل اور منظم کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ بعض مغربی ممالک کی طرح براہِ راست مالی امداد کیوں نہیں دی گئی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین”لوگوں کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھانے “پر یقین رکھتا ہے۔چینی عوام بھی سمجھتے ہیں کہ راستہ فراہم کرنا پارٹی اور حکومت کا کام ہے، مگر خوشحالی اپنی محنت سے حاصل کی جاتی ہے۔

تاہم چین کی غربت کے خاتمے کی کرشماتی کامیابی پر بعض مغربی ذرائع ابلاغ “کم معیار”، “اعداد و شمار کا کھیل” اور “غیر پائیدار” جیسے اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ میڈیا کے دوست صرف اس بنیاد پر شکوک کا اظہار کرتے ہیں کہ نقل مکانی کرنے والے لوگوں کے لیے تعمیر کردہ نئی کمیونٹی میں لوگوں کو خود سبزیاں اگاتے دیکھا گیا ،اور سوال اٹھایا کہ کیا واقعی غربت ختم ہو گئی؟

کچھ مغربی اشرافیہ جنہوں نے کبھی خود محنت کا تجربہ نہیں کیا، یہ نہیں سمجھ سکتے کہ چینی لوگ سبزیاں اگانا کیوں پسند کرتے ہیں۔ وہ گھروں میں گملوں میں سبزیاں اگاتے ہیں، خالی زمین پر اگاتے ہیں، حتیٰ کہ خلا میں بھی سبزیاں اگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشکل وقت میں سبزیاں اگانا پیٹ بھرنے کے لیے تھا، اور خوشحالی کے دور میں یہ ماضی کو یاد رکھنے کے لیے اور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ غربت میں کبھی بھی ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی خودداری برقرار رکھیں، اور طاقتور ہونے پر کبھی بھی دوسروں کی محنت کے نتائج پر ناجائز قبضہ نہ کریں۔جب خوراک کی فراوانی ہوتی ہے تو انسان تہذیب اور اخلاق کو بہتر طور پر سمجھتا ہے۔

مادی زندگی کے استحکام سے روحانی ترقی کے لیے بھی راستہ ہموار ہوتا ہے۔ جب صبح کی پرندوں کی چہچہاہٹ زندگی کا حصہ بن جائے اور درخت و پھول روزمرہ کا منظر، تو انسان اور فطرت کا تعلق کشیدگی سے نکل کر ہم آہنگی اور باہمی ارتقاء میں بدل جاتا ہے۔ اسی لیے چین انسانی حقوق کے حوالے سے محض کھوکھلے نعرے بازی نہیں کرتا بلکہ سب سے پہلے بقا اور ترقی کے حق پر زور دیتا ہے۔ نہ صرف اپنی بقا اور ترقی بلکہ سب کی مشترکہ بقا اور ترقی کی بات کی جاتی ہے۔ نہ صرف انسان کی بقا اور ترقی بلکہ تمام جانداروں کی مشترکہ بقا اور ترقی بھی مدنظر رکھی جاتی ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں انسان،پرندوں اور پودوں سمیت تمام مخلوقات ہم آہنگی کے ساتھ زندہ رہیں، یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے کوشش کی جانی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں