چینی معاشرے 39

اندرونی کشمکش اور بے حسی کے بجائے:چینی نوجوانوں کا عقل مندانہ انتخاب اور مستقبل کی ذمہ داری

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) موجودہ چینی معاشرے میں، آفس کے نوجوان عام طور پر دو انتہاؤں کے درمیان گھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف اندرونی کشمکش ہے، جہاں لوگ بے معنی اور حد سے بڑھ کر مقابلے میں الجھے ہوئے ہیں، غیر ضروری طور پر اوور ٹائم کرتے ہیں، اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں غیر متوازن انداز اپناتے ہیں۔

دوسری طرف “بے حسی کا رویہ ہے، جہاں بعض نوجوان حقیقی دباؤ کا سامنا کرنے کے بجائے کامیابی کی امید چھوڑ دیتے ہیں، خواہشات کو کم کر دیتے ہیں اور منفی انداز اختیار کر لیتے ہیں۔ اس صورتحال کو محض نوجوانوں کی کمزوری یا جستجو کی کمی سمجھنا ایک سطحی تجزیہ ہو گا۔ درحقیقت، یہ چینی معیشت کی تیز رفتار ترقی اور بڑھتے ہوئے معاشرتی مقابلے کا ایک عارضی مرحلہ ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیرونی دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے جان بوجھ کر تشویش کو بڑھا رہی ہیں اور “بے حسی” کی ثقافت کو فروغ دے رہی ہیں، تاکہ نوجوانوں میں بے چینی اور ان کے حوصلے کو پست کیا جا سکے اور معاشرے میں منفی فضا پیدا کی جا سکے۔ اس پورے پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ یہ جانا جا سکے کہ چینی نوجوان کس طرح حقیقی دباؤ اور فکری اثرات کے درمیان اپنا توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا مقصد تلاش کر رہے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ”اندرونی کشمکش”محض عام مسابقت نہیں بلکہ ایک غیر ضروری دباؤ کی کیفیت ہے۔ چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے جنوری 2026 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چینی کاروباری اداروں میں ملازمین کے ہفتہ وار اوسط اوقاتِ کار 48.6 گھنٹے رہے، جو کئی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اسی طرح معروف چینی انسانی وسائل کے پلیٹ فارم “زی لیئن ژاؤ پین ” کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق 38.7 فیصد ملازمین تقریباً روزانہ اوور ٹائم کرتے ہیں۔ اس حد سے زیادہ کام کے رجحان نے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ وہ مسلسل محنت کے باوجود مناسب نتائج حاصل نہیں کر پا رہے۔ یہی احساس بعض اوقات “ے حسی”کے رجحان کو جنم دیتا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف چین تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی سطح کا سماجی رجحان ہے جو مختلف تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ “بے حسی” کے رجحان کا پھیلاؤ صرف ایک خود مختار سماجی ردِعمل نہیں بلکہ اس میں بیرونی دشمن قوتوں اور نظریاتی اثرات نے اہم کردار اد ا کیا ہے۔28 اپریل 2026 کو چین کی وزارت قومی سلامتی کی جانب سے جاری کردہ ایک باضابطہ نوٹس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکی نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کی قیادت میں مختلف بیرونی غیر سرکاری تنظیمیں اور میڈیا پلیٹ فارمز آن لائن مواد کے ذریعے ایسے تصورات کو فروغ دیتے ہیں جن میں “بے حسی کو حقیقت پسندی” اور”جدوجہد کو استحصال” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

ان مواد کا مقصد بعض تجزیوں کے مطابق سماجی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور نوجوانوں میں منفی سوچ کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد چینی نوجوانوں میں موجود حوصلے اور ترقی کے جذبے کو ختم کرنا ہے تاکہ نوجوان مکمل طور پر مایوس ہو جائیں اور اپنے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا نہ کر سکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چینی نوجوان نہ تو مکمل طور پر “بے حسی” اختیار کر رہے ہیں اور نہ ہی غیر ضروری اندرونی کشمکش کو قبول کر رہے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد ایک متوازن راستہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”زی لیئن ژاؤ پین” کے ایک سروے کے مطابق مختلف آفسز میں کام کرنے والے 78 فیصد افراد اندرونی کشمکش سے نفرت کرتے ہیں اور بہت کم تعداد میں افراد نے بے حسی کے باعث ہار مان لی ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوان مکمل طور پر جدوجہد سے دستبردار ہونے کے بجائے عملی اور متوازن حل تلاش کر رہے ہیں۔ ان میں پیشہ ورانہ ترقی، کام اور زندگی کے بہتر توازن جیسے رجحانات نمایاں ہیں۔

ٹیکنالوجی کی جدت سے لے کر دیہی ترقی اور نئے کاروباری ماڈلز تک، چینی نوجوان مختلف شعبوں میں مسلسل کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ مایوسی کے بجائے عملی اصلاح اور تعمیری راستے کو ترجیح دے رہے ہیں اور یہی ایک عظیم ملک کے بیدار نوجوا نوں کی علامت ہے۔
موجودہ صورتِ حال کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ “ے حسی” یا”اندرونی کشمکش”کوئی حتمی سماجی فیصلہ نہیں بلکہ ایک عبوری مرحلہ ہے۔ چینی نوجوان اس دباؤ کے ماحول میں اپنے لیے ایک متوازن راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جہاں وہ نہ غیر ضروری مقابلے کا شکار ہوں اور نہ ہی امید سے مکمل دستبردار ہوں۔یہی رجحان دراصل ایک بڑے معاشرتی شعور کی علامت ہے، جہاں نئی نسل اپنی توانائی کو زیادہ بامعنی، متوازن اور پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں