لاہور( رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی ممالک کو اپنے باہمی تنازعات بیرونی مداخلت کے بغیر مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنے چاہئیں۔
مسلم دنیا کے اختلافات اور تقسیم کا فائدہ اسرائیل، امریکہ اور دیگر مخالف قوتوں کو پہنچتا ہے، علاقائی طاقتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ترکیہ کی اناطولیہ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کی صورتحال، ایران امریکہ کشیدگی، مکہ دفاعی معاہدے، یمن کے بحران اور پاکستان افغانستان تعلقات پر خیالات کا اظہار کیا۔ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ آٹھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ایران میں عوامی بغاوت کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کی امریکی توقع پوری نہیں ہوئی۔ پاکستان نے جون 2026 میں سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمت خطے میں کشیدگی ختم کرنے کی ایک اہم پیش رفت تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں صہیونی لابی اور اسلحہ ساز صنعت اس قدر طاقتور ہیں کہ امریکی حکومت اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کر پاتی۔ خطے میں عدم استحکام ان قوتوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو خود امریکی عوام کے لیے بھی اچھا نہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی امریکہ کے لیے ایک خطرناک مہم جوئی ہوگی۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں طے پانے والی مفاہمت کا احترام کرے اور علاقائی ممالک کے تحفظات کو اہمیت دے۔مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ مسلم ممالک کے درمیان مشاورت، مشترکہ حکمت عملی اور باہمی تعاون کا ایک اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔انہوں نے تجویز دی کہ اس معاہدے میں ایران، مصر، قطر، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے تاکہ بڑی مسلم قوتیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح مسلم ممالک کے درمیان اعتماد بڑھے گا اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جا سکے گا۔یمن میں سعودی عرب اور حوثی تحریک کے درمیان کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ ایک حساس اور سنجیدہ معاملہ ہے، جسے مزید بڑھانے سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ تمام متعلقہ ممالک کو مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔انہوں نے ایران کی جانب سے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اعلی نمائندوں کے دورے کا مثبت خیرمقدم کرنے کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی طاقتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔ بیرونی قوتوں کی مداخلت مسلم معاشروں میں ایسی تقسیم پیدا کر سکتی ہے جس کا ازالہ مشکل ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مسلم ممالک نے اختلافات حل نہ کیے تو ان کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو سکتی ہیں، جو پوری مسلم دنیا کے لیے نقصان دہ ہوگا۔پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے دونوں ممالک کے عوام کو مسلمان بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہزاروں کلومیٹر طویل سرحد ہے اور پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔ افغان عوام نے پہلے روس اور پھر امریکہ کے خلاف جدوجہد کرکے اپنی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کا خیرمقدم کیا تھا، تاہم سرحد پار حملوں کے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر سرگرم بعض گروہوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
امیر جماعت اسلامی نے زور دیا کہ اسلام آباد اور کابل کو سفارتی رابطوں میں تیزی لانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ترکیہ اور چین جیسے ممالک کو بھی مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے، کیونکہ ان کے دونوں ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔ ٹرمپ اگر واقعی دنیا میں امن کے لیے کام کر رہے ہوتے تو مختلف خطوں میں جنگیں جاری نہ ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کی پشت پناہی کرنے والے امریکی صدر کو نوبل انعام کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا۔









