بشکیک (رپورٹنگ آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ کرغزستان کے دوران تاجکستان، ازبکستان، قازقستان اور بیلاروس کے درمیان کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا۔نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغزستان کے وزیرِ خارجہ ژین بیک مولدوکانووچ کولوبایف سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل کے ساتھ ساتھ دسمبر 2025 میں جمہوریہ کرغزستان کے صدر کے دورۂ پاکستان اور جولائی 2026 میں صدرِ پاکستان کے سرکاری دورۂ کرغزستان کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر بروقت عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعاون میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، رابطہ کاری، کاروباری اداروں کے مابین تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا اور امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر تاجکستان کے وزیرِ خارجہ سراج الدین مہرالدین سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ، برادرانہ اور قریبی تعلقات کا اعادہ کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، توانائی، ثقافت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط کا تسلسل نہایت اہم ہے۔
وزیرِ خارجہ سراج الدین مہرالدین نے خطے میں امن، استحکام اور مسائل کے پرامن حل کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف سے ملاقات کی، دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی کا اعادہ کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، توانائی، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط کے تسلسل اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ، علاقائی اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے رواں سال کے آغاز میں ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف کے پاکستان کے کامیاب دورے کو یاد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس دورے کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں کو بروقت عمل درآمد کے ذریعے عملی نتائج میں تبدیل کیا جائے۔
وزیرِ خارجہ بختیار سعیدوف نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، دونوں فریقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے دیرپا امن اور علاقائی استحکام کی راہ ہموار ہوتی رہے گی۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایس سی او اجلاس کے موقع پر قازقستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف سے اہم ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف کے دورہ پاکستان کے بعد دو طرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کا جائزہ لیا، انہوں نے صدر جومارت کے دورے میں طے پانے والے اتفاقِ رائے، بشمول 37 مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر بات چیت کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، علاقائی روابط، توانائی، عوامی روابط اور کثیرالجہتی فورمز پر تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف نے خطے میں امن اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون بڑھائیں گے۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ یرمیک کوشیربایف نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں ایس سی او اجلاس کے موقع پر بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف سے بھی ملاقات کی ہے، جس میں فریقین نے دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں کا 11 اور 12 اگست 2026 کو اسلام آباد میں پاک بیلاروس مشترکہ وزارتی کمیشن کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا، اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ، دفاع، زراعت، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے تبادلے کے شعبوں میں اشتراک بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس موقع پر 2025 تا 2027 کے جامع تعاون کے روڈ میپ پر عملدرآمد کے لیے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
وزیر خارجہ میکسم ریژینکوف نے امریکا ایران مکالمے کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔









