عدالت 16

اراضی پر مبینہ پولیس مداخلت سے متعلق کیس ،سی پی اوگوجرانوالہ کی رپورٹ پردرخواست نمٹا دی گئی

لاہور (رپورٹنگ آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اراضی پر مبینہ پولیس مداخلت سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے سی پی اوگوجرانوالہ کی رپورٹ پردرخواست نمٹا دی، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے واضح کیا کہ اراضی کی ملکیت کا تعین دیوانی عدالت کا اختیار ہے جبکہ ریونیو رپورٹ سے متعلق اعتراض متعلقہ ریونیو فورم پر اٹھایا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سائل شرافت علی کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کاموقف تھاکہ وہ لیزہولڈر ہے اورحکم امتناعی موجود ہونے کے باوجود پولیس نے اراضی کے معاملے میں مداخلت کی، جس پر اس نیہائیکورٹ سے رجوع کیا۔دوران سماعت سی پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر غیاث گل اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر کے ہمراہ پیش ہوئے اور انکوائری رپورٹ جمع کرائی۔چیف جسٹس نے سی پی او سے استفسار کیا کہ انکوائری کا کیا نتیجہ نکلا؟ ۔اس پر سی پی او نے بتایا کہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق رپورٹ درخواست گزار کے حق میں آئی ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیئے کہ پولیس نے اس معاملے کو صرف اپنے دائرہ اختیار کے مطابق دیکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک پٹواری دس دس رپورٹیں لوگوں کی منشاکے مطابق لکھتا ہے۔

مدعی مقدمہ کے وکیل نے ریونیو رپورٹ کو غلط قرار دیا تو چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر رپورٹ پر اعتراض ہے تو اسے متعلقہ ریونیو اتھارٹی کے سامنے چیلنج کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ فریقین کے سول دعوے پہلے ہی متعلقہ دیوانی عدالت میں زیر التواء ہیں۔بعد ازاں درخواست گزار کے وکیل نے پولیس کی انکوائری رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مزید دلائل دینے سے گریز کیا، جس پر عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں