شہباز شریف 17

کے پی میں ناگزیر حالات پر گورنر راج لگایا اگر بروقت فیصلہ نہ کرتے تو مزید نقصان ہوتا،وزیراعظم

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا،،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے ، مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن منظوری نہ مل سکی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں،800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟

محکمہ انسداددہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں، 13 سال میں خیبر پختون خوا میں کتنی جامعات اور اسپتال بنائے گئے؟ ادویات اور علاج معالجے کے کتنے بہترین انتظامات کیے گئے اور کرپشن کا کتنا خاتمہ کیا گیا؟ صوبائی حکومت نے سرکاری فنڈز کس حد تک شفافیت کے ساتھ استعمال کیے؟۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی اور عہدیداوں سے خطاب کرتے ہوئے بطوروزیراعظم پاکستان اور قائد محمد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے آپ سے مخاطب ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ خیبر پختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ اوریہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں ۔وزیر اعظم نے کہاکہ مسلم لیگ (ن )نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ شہبازشریف نے کہاکہ 2013 کے انتخابات کے بعدقائدنواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ محمدنواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ شبہازشریف نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں 13 سال برسراقتدار پارٹی کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کیے گئے۔ وزیراعظم نے سوال کیا گزشتہ 13سال میں صوبے میں کتنی یونیورسٹیاں اور ہسپتال بنائے گئے؟ ۔ شہبازشریف نے کہاکہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔وزیراعظم نے کہاکہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبر پختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں۔ شہبازشریف نے کہاکہ عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں۔شہباز شریف نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔ انہوںنے کہاکہ محمدنواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ اے پی ایس پشاور کا انتہائی دردناک اور دل خراش واقعہ آج بھی ذہنوں میں تازہ ہے، ننھے بچوں کی شہادت کا سانحہ تاریخ میں ایک المناک مثال کے طور پرموجود رہے گا ۔ وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

وزیراعظم نے کہاکہ گزشتہ ڈھائی سال میں ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔شہباز شریف نے کہاکہ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا ،2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان میں اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے ۔ شہباز شریف نے کہاکہ ملک سے 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔ شبہازشریف نے کہاکہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ۔ شہبازشریف نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف ماضی کی طرح مل کر مقابلہ کرنے کی دعوت دی، لیکن ہماری بات نہیں سنی گئی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ خیبر پختونخوا میں 800 ارب روپے سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے؟، خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداددہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟

صوبے میں پولیس کی 5 ہزار خالی اسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی۔ شہبازشریف نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت کی فراہمی پر خرچ ہونے چاہئیں تھے۔ انہوںنے کہاکہ ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی ۔ شہبازشریف نے کہاکہ عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجراء کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ فیول سبسڈی سکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں ، عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے۔ وزیراعظم نے کہاکہ غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے۔

انہوںنے کہاکہ ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ شہبازشریف نے کہاکہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اورایمرجنسی کانفاذکیاگیا،مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے ، مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن منظوری نہ مل سکی۔ وزیراعظم نے کہاکہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔انہوںنے کہاکہ بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا ، صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی خدمت کیلئے مسلم لیگ (ن )اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں