چین 16

چین کے” نئے تین نمایاں شعبے”  عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن  کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے، چینی میڈیا

بیجنگ (رپورٹنگ آن لائن) مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور اختراعی ادویات  چین کی برآمدات کے”  نئے تین نمایاں شعبے”  ہیں۔  چائنا میڈیا گروپ کے  سی جی ٹی این  کی جانب   سے دنیا بھر کے صارفین کے لیے  کیے گئے  ایک سروے  میں   93.1 فیصد  جواب دہندگان نے کہا کہ ‘نئے تین نمایاں شعبوں’ کی مقبولیت اس بات کی عکاسی  ہے کہ چینی مصنوعات اب بین الاقوامی مارکیٹ میں اصل ٹیکنالوجی،انٹیلیجنٹ  سسٹم  اور حل فراہم کر رہی ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین کی  صنعتی روبوٹکس برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 18.6 فیصد اضافہ ہوا؛  اٹیلیجنٹ  بائیونک روبوٹس کی برآمدات دس ہزار  یونٹس سے زیادہ  رہیں  اور  ان کی رسائی   90 سے زیادہ ممالک اور علاقوں تک پہنچی ۔  چین کی اختراعی ادویات کی  بیرونی لائسنس ٹرانزیکشنز کا کل حجم تقریباً110 ارب امریکی ڈالر ہے۔ سروے میں 87.7 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ ” نئے تین نمایاں شعبے” چین کی مضبوط مینوفیکچرنگ کی  صلاحیت کو ایک بار پھر  ظاہر کرتے ہیں؛ 83.8 فیصد  افراد نے  کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ تیزی سے ماحول دوست اور ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو رہی ہے ۔

91.3 فیصد افراد نے کہا کہ چینی مینوفیکچرنگ  میں  اب مسابقت کا   فائدہ صرف پیمانے کا نہیں بلکہ معیار، ٹیکنالوجی، برانڈ اور سروس کے مجموعی فائدے میں منتقل ہو گیا ہے۔ 89.5 فیصدجواب دہندگان نے کہا کہ چین کے”  نئے تین نمایاں شعبے”  عالمی مینوفیکچرنگ کی جدت اور اپ گریڈ یشن کے لیے نئے مواقع فراہم کریں گے۔یہ سروے  سی جی ٹی این  کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی پلیٹ فارمز پر شائع ہوا اور 24 گھنٹوں کے  دوران   3339  افراد نے  اس سروے میں حصہ لیتے ہوئے اپنی رائے  کا اظہار کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں