سندھ ہائی کورٹ 19

پولیس کے تین ڈی آئی جیز اور تین ایس ایس پیز کے خلاف درخواست، سندھ ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی کے ایک تاجر کی جانب سے پولیس کے تین ڈی آئی جیز اور تین ایس ایس پیز کے خلاف دائر آئینی درخواست پر چیف سیکریٹری سندھ سمیت دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 اگست تک جواب طلب کر لیا۔جمعہ کو ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار محمد نعمان کے وکیل احمد علی گبول ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل سے پولیس افسران کے نام پر 36 کروڑ روپے سے زائد بھتہ وصول کیا گیا۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ واجد شیخ نامی شخص پولیس کے نام پر درخواست گزار کو بلیک میل کرتا ہے اور ہر ہفتے 70 سے 80 لاکھ روپے بھتہ وصول کیا جاتا رہا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے، جبکہ انسپکٹر جنرل سندھ کو مبینہ طور پر بھتہ خوری میں ملوث افسران کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا جائے۔ درخواست گزار نے عدالت سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کرنے کی بھی استدعا کی۔

سماعت کے دوران عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر درخواست گزار کے خلاف سندھ کے کسی بھی ضلع میں کوئی مقدمہ درج ہے تو اس کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کی جائیں۔درخواست میں ڈی آئی جی اظفر مہیسر، ڈی آئی جی اسد رضا، ڈی آئی جی عرفان بہادر، ایس ایس پی خالد مصطفیٰ کورائی، ایس ایس پی مرتضیٰ تبسم، ایس ایس پی زبیر شیخ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ مقدمے کی آئندہ سماعت 4 اگست کو ہوگی، جس پر متعلقہ حکام اپنے جوابات عدالت میں جمع کرائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں