عالمی بینک 19

پاکستان میں غربت کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے بھی بڑھ گئی، عالمی بینک

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرنے والے انتہائی غریب افراد میں 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں، جبکہ یہ دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018-19سے-25 2024 کے دوران یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت میں 64 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی شرح میں بھی 32 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔عالمی بینک نے پاکستان میں غربت بڑھنے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے اثرات، شدید مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، سیلاب اور طویل معاشی مشکلات کو شامل کیا ہے۔ ان عوامل کے باعث لوگوں کی آمدنی، روزگار کے مواقع اور قوت خرید متاثر ہوئی، جس سے کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی بگڑتی صورت حال نے پورے خطے میں غربت کے اضافے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب خاندانوں پر مزید مالی دباؤ ڈال دیا ہے، جبکہ ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ خوراک کی شدید کمی یا اس سے بھی بدتر صورت حال کا سامنا کر رہا ہے۔عالمی بینک کے مطابق ترقی پذیر معیشتوں میں کم آمدنی والے گھرانے اپنی مجموعی آمدنی یا اخراجات کا تقریباً 35 سے 50 فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، جس کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے لیے سنگین معاشی مسائل پیدا کر دیتا ہے۔

رپورٹ میں مہنگائی کی شرح 2025 میں 4.5 فیصد کے مقابلے میں 2026ء کے دوران 7.1 فیصد رہنے اور 2027ں بڑھ کر 8.2 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ بھی پیش کیا گیا ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقات پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں