ڈاکٹر حسن احمد 19

پاکستان میں ریبیز کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا کردار

تحریر ڈاکٹر حسن احمد

پاکستان میں ریبیز کا مسئلہ
پاکستان میں ریبیز (Rabies) ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے بچاؤ کے لیے بروقت علاج، کتوں کی ویکسینیشن اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ یہ بیماری علامات ظاہر ہونے کے بعد تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے، لیکن بروقت طبی اقدامات سے اسے روکا جا سکتا ہے۔
اکتوبر 2026میں سندھ سے ریبیز کے مزید کیسز سامنے آئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک 12سالہ بچے کو کتے کے کاٹنے کے تقریباً دو ماہ بعد ریبیز کی علامات کے ساتھ کراچی کے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لایا گیا۔ اسی دوران تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی ریبیز کے باعث موت کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ یہ واقعات اس بات کی اہمیت واضح کرتے ہیں کہ ریبیز کی روک تھام کے لیے صرف آگاہی کافی نہیں، بلکہ منظم اور مسلسل اقدامات کی ضرورت ہے۔

کتوں کی ویکسینیشن اور بہتر نگرانی کی ضرورت
ریبیز پر قابو پانے کے لیے کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، خطرے سے دوچار علاقوں میں کتوں کی کم از کم 70فیصد آبادی کو ویکسین لگانا بیماری کی منتقلی روکنے کی مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ صرف کتوں کی تعداد کم کرنا اس مسئلے کا پائیدار حل نہیں؛ ویکسینیشن، نگرانی، عوامی آگاہی اور انسانی طریقوں سے جانوروں کی آبادی کا انتظام ایک ساتھ ضروری ہیں۔
تاہم، ویکسینیشن مہم کی کامیابی جانچنے کے لیے یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ کتنے جانوروں کو ویکسین لگائی گئی، ویکسین کب دی گئی اور کن علاقوں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر یہ معلومات مختلف کاغذی رجسٹروں یا افراد کے پاس بکھری رہیں تو ریکارڈ کی جانچ، اگلی ویکسینیشن کی منصوبہ بندی اور مہم کی مجموعی پیش رفت کا جائزہ لینا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈیجیٹل ویکسینیشن ریکارڈز کیوں ضروری ہیں؟

ڈیجیٹل ویکسینیشن ریکارڈز جانور کی ویکسینیشن کی تاریخ، ویکسین کی تفصیلات اور اگلی خوراک کی تاریخ کو ایک منظم نظام میں محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کاغذی کارڈ گم ہونے یا معلومات نامکمل ہونے کی صورت میں ڈیجیٹل ریکارڈ ایک اضافی ذریعہ فراہم کر سکتا ہے۔

ڈیجیٹل ریکارڈز کے اہم فوائد
مستقل ریکارڈ:جانور کی ویکسینیشن کی تاریخ ایک جگہ محفوظ رہ سکتی ہے۔
آسان تصدیق: متعلقہ افراد آن لائن دستیاب ریکارڈ اور اس کی موجودہ حیثیت دیکھ سکتے ہیں۔
بروقت یاد دہانی: مالکان کو اگلی ویکسینیشن کی تاریخ یاد دلائی جا سکتی ہے۔
بہتر رابطہ: جانوروں کے مالکان اور ویٹرنری کلینکس کے درمیان معلومات کا تبادلہ آسان ہو سکتا ہے۔
مؤثر نگرانی: بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگراموں میں ریکارڈز کو منظم کرنے اور پیش رفت کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے۔

VetAmi: جانوروں کی ویکسینیشن کے لیے ایک ڈیجیٹل حل
پاکستان میں VetAmiایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد پالتو جانوروں کی ویکسینیشن اور صحت سے متعلق معلومات کو منظم کرنا اور جانوروں کے مالکان کو ویٹرنری کلینکس سے منسلک کرنا ہے۔
VetAmiکے ذریعے مالک اپنے جانور کی ویکسینیشن کی تفصیلات اور ویکسین کے اسٹیکر کی تصویر جمع کرا سکتا ہے۔ متعلقہ کلینک اس ریکارڈ کا جائزہ لے کر اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ اس عمل سے ویکسینیشن کی معلومات کو صرف کاغذی کارڈ تک محدود رکھنے کے بجائے ڈیجیٹل طور پر محفوظ اور قابلِ رسائی بنانے میں مدد ملتی ہے۔
اس نظام کی ایک اہم خصوصیت ویکسینیشن ریکارڈ کی آن لائن تصدیق اور QRکوڈ کے ذریعے جانور کی شناخت کا تصور ہے۔ مستقبل میں اس طریقۂ کار کو مزید بہتر بنا کر جانور کی شناخت، ویکسینیشن کی تاریخ اور متعلقہ ریکارڈ کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔
ریبیز کے تناظر میں اس طرح کا نظام خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ویکسینیشن کی معلومات کو منظم رکھنے سے مالکان کے لیے اپنے جانوروں کی ویکسینیشن کی تاریخ کا خیال رکھنا اور متعلقہ کلینکس کے لیے ریکارڈ کا جائزہ لینا آسان ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل نظام کا مقصد صرف معلومات محفوظ کرنا نہیں، بلکہ ریکارڈ کی شفافیت اور جواب دہی بہتر بنانے میں مدد دینا بھی ہے۔ مثال کے طور پر، ویکسین کے بیچ نمبر یا دوسری تفصیلات میں تضاد سامنے آنے پر ریکارڈ مزید جانچ کے لیے نشان زد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ایسے تضادات خودبخود دھوکا دہی کا ثبوت نہیں ہوتے، اور ڈیجیٹل ریکارڈ بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ ویکسین اصلی تھی یا درست طریقے سے لگائی گئی تھی۔ اس کے لیے مناسب نگرانی، مستند ذرائع سے ویکسین کی فراہمی اور متعلقہ ماہرین کی جانچ ضروری ہے۔

آوارہ کتوں کی ویکسینیشن میں ٹیکنالوجی کا ممکنہ استعمال
ڈیجیٹل ریکارڈز کا استعمال پالتو جانوروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر سرکاری ادارے، ویٹرنری ڈاکٹرز اور جانوروں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں مشترکہ طور پر آوارہ کتوں کی ویکسینیشن مہمات چلائیں تو جانوروں کی شناخت اور ویکسینیشن کا ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
مثال کے طور پر، مناسب ٹیگ یا QRکوڈ کے ذریعے کسی ویکسین شدہ کتے کی شناخت کی جائے اور اس کے ساتھ ویکسینیشن کی تاریخ اور مقام کا ریکارڈ منسلک ہو تو فیلڈ ٹیموں کو مہم کی پیش رفت کا جائزہ لینے اور مزید ویکسینیشن کی ضرورت والے علاقوں کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
VetAmiجیسے پلیٹ فارمز مستقبل میں متعلقہ اداروں کے تعاون سے اس مقصد کے لیے آزمائے جا سکتے ہیں۔ تاہم، آوارہ کتوں کے لیے ایسا نظام مؤثر بنانے کے لیے عملی آزمائش، قابلِ اعتماد ڈیٹا، مناسب شناختی طریقے اور سرکاری و ویٹرنری اداروں کی شراکت ضروری ہوگی۔

انسانی علاج اور عوامی آگاہی کی اہمیت
جانوروں کی ویکسینیشن اور ڈیجیٹل ریکارڈز کے ساتھ انسانی صحت کے اقدامات کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو کتا کاٹ لے تو زخم کو فوراً صابن اور بہتے پانی سے تقریباً 15منٹ تک دھونا اور فوری طور پر طبی مرکز سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ریبیز ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبیولن سمیت بعد از کاٹنے کا علاج (PEP) جان بچانے میں مدد دیتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان میں ریبیز کی روک تھام کے لیے حکومت، ویٹرنری ڈاکٹرز، صحت کے اداروں، جانوروں کی فلاحی تنظیموں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ویکسینیشن کے ساتھ قابلِ اعتماد ریکارڈ، بہتر نگرانی اور عوامی آگاہی کو بھی قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
VetAmiجیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس کوشش میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ڈیجیٹل ریکارڈز کو مؤثر ویکسینیشن پروگراموں، ذمہ دارانہ ویٹرنری طریقۂ کار اور متعلقہ اداروں کے تعاون کے ساتھ استعمال کیا جائے تو جانوروں کی ویکسینیشن کی معلومات کو منظم کرنا اور نگرانی کو بہتر بنانا ممکن ہو سکتا ہے۔
ریبیز کی روک تھام کے لیے ویکسینیشن بنیادی قدم ہے، جبکہ ڈیجیٹل ریکارڈز اس کوشش کو زیادہ منظم، قابلِ نگرانی اور مؤثر بنانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں