خواجہ آصف 12

پاکستان مخالف بیانات اور ملکی اداروں اور شہدا کی توہین تشویشناک ہے، وزیردفاع

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان مخالف بیانات اور ملکی اداروں اور شہدا کی توہین تشویشناک ہے، کشمیر پر انڈیا کیخلاف 5 جنگیں لڑی ہیں، اس کی سرحدوں کی حفاظت ہماری مسلح افواج کر رہی ہیں ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام نے 78 سال سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور انہوں نے پاکستان سے اپنی وابستگی اور محبت کے اظہار میں لاتعداد قربانیاں اور شہادتیں دی ہیں، کشمیری شناخت اور جدوجہد قربانی، ہجرت اور طویل مزاحمت کی تاریخ ہے،

وہ لوگ آزادی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے اس کیلئے قربانیاں نہ دی ہوں، پاکستان اور کشمیر کے درمیان رشتہ مشترکہ جدوجہد اور باہمی عزم پر قائم ہے ،اگر میں پاکستانی ہو کر پاکستان کی سالمیت کیخلاف بات کروں تو میں پاکستانی نہیں۔ انہوںنے کہاکہ کنٹرول لائن پر ہماری افواج پہرا دیتی ہیں جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے جوان شامل ہیں ،ہم نے کشمیر کیلئے 5 جنگیں لڑیں اور صلے میں ہمیں گالیاں دی جاتی ہیں جو قابل قبول نہیں۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن)کے درمیان ماضی میں ایک دوسرے سے اختلاف اور محاذ آرائی کی تاریخ رہی ہے، پھر دونوں جماعتوں نے احساس کیا کہ جمہوریت اورجمہوری روایات کوآگے بڑھانے کیلئے ہمیں ایک طریقہ کار اختیارکرنا چاہئے اور اسی جذبہ کے تحت میثاق جمہوریت پردستخط کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ میں کسی کو ہدایت دیتا ہوں یا مطالبہ کرتا ہوں تو اس مطالبہ سے پہلے ہاتھوں کا صاف ہونا ضروری ہے، ماضی میں اس ایوان میں جب اپوزیشن کی حکومت تھی تو مراد سعید میزوں کے اوپر دوڑتے تھے، اس ایوان میں ان لوگوں نے کیا کیا نہیں کیا۔

وزیر دفاع نے کہاکہ ماضی کو درست کرنا ضروری ہے، تمام جماعتوں کو چارٹر آف ڈیمو کریسی پر دستخط کرنے چاہئیں اور اگرکوئی کمی ہے تو وہ بھی اس میں شامل کرکے اس پر عمل کرنا چاہئے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ نہیں بھولناچاہئے کہ ماضی میں کیا کیا نہیں ہوا، اس ایوان میں آدھے گھنٹے میں 56 قوانین منظورکئے گئے، سپیکرکی کرسی کو اسمبلی توڑنے کیلئے استعمال کیا گیا، انصاف و مساوات کا مطالبہ کرنے کیلئے ماضی کی غلطیوں کو درست کرنا ضروری ہے۔

وزیردفاع نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کل جب ایوان میں آئے توسب سے پہلے وہ لیڈر آف دی اپوزیشن کے پاس گئے، وزیر خزانہ بھی ان کے پاس گئے، جب بانی پی ٹی آئی وزیراعظم تھے تویہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا، ان کاکوئی بندہ اپوزیشن کے بینچوں پر نہیں آتا تھا کہ کہیں بانی پی ٹی آئی ناراض نہ ہو جائے، پارلیمانی نظام اورسیاست کو عمران خان نے جتنا نقصان پہنچایا 75 سالوں میں کسی نے نہیں پہنچایا، ان کی تابعداری میں ان کے اراکین نے بھی اس میں حصہ لیا۔

وزیر دفاع نے کہاکہ محمودخان سے ان کا پراناتعلق ہے،وہ اپوزیشن میں ان لوگوں کے درمیان عجیب وغریب لگتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی توکوئی روایات ہی نہیں ہیں، ایک بندے کی خواہش پرکوئی جماعت نہیں چل سکتی ،ان کی جماعت میں جمہوریت ہی نہیں ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بلوچستان میں پائیدار امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی راہداریوں، ٹرانزٹ ٹریڈ اور نقل و حمل کے مختلف منصوبوں سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ بلوچستان کے عوام بھی براہِ راست مستفید ہوں گے جس سے صوبے میں ترقی اور استحکام کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے کے دوران عالمی سطح پر مثبت سفارتی کردار ادا کیا ہے جس کے نتیجے میں ملک کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کا ذکر دہشت گردی اور سکیورٹی مسائل کے تناظر میں کیا جاتا تھا، تاہم آج عالمی برادری پاکستان کو امن، مفاہمت اور علاقائی استحکام کے لیے کردار ادا کرنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔وزیر دفاع نے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماں نے ملک کو سیاسی، معاشی اور آئینی استحکام کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے مثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف نے کہا کہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ریاستی اداروں کے درمیان تنا اور اختلافات سے ملک کو نقصان پہنچا، تاہم موجودہ قیادت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لیے تمام اداروں کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قومی مسائل کے حل اور ریاستی نظام کے مثر انداز میں چلانے کے لیے اداروں کے درمیان تعاون اور اعتماد ناگزیر ہے، اور یہی طرزِ عمل ملک کو درپیش سیاسی و معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔خواجہ محمد آصف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال ریاست بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں