وفاقی وزیر خزانہ 16

پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہاہے ، سینیٹر اور نگزیب

اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن )وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرضوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لے رہاہے اور اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، رواں مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، بینکوں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو موثر بنانے اور سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے ۔

پیرکوپاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیراہتمام”ڈیجیٹل اثاثوں پرمکالمہ اورمستقبل کی بینکاری”کے موضوع پرمنعقدہ تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کو ایسی مالیاتی جدت کی ضرورت ہے جو کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باضابطہ معیشت کا حصہ بنانے میں مدد دے،ڈیجیٹل اثاثوں کو بھی مالیاتی نظام میں اپنی افادیت حقیقی معاشی نتائج کے ذریعے ثابت کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس اور ترسیلات زر کا شعبہ ٹوکنائزیشن کے اہم ممکنہ استعمالات میں شامل ہے ،رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے اعدادوشمار حوصلہ افزا ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام پر ترسیلات زر کا مجموعی حجم 44 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، برآمدات بڑھانے اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، مالیاتی نظام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی دینے اور کاروباری اداروں کو موثر خدمات فراہم کرنے میں ڈیجیٹل جدت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے پی مورگن ادارہ جاتی صارفین کے لیے بلاک چین نیٹ ورکس پر رقوم کی منتقلی میں ڈپازٹ ٹوکنز استعمال کر رہا ہے جبکہ بینک برائے بین الاقوامی تصفیہ جات بی آئی ایس کا منصوبہ پراجیکٹ آگورا بھی ٹوکنائزڈ کمرشل بینک ڈپازٹس اور مرکزی بینک کے ذخائر کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مختلف اقسام کے خطرات اور خصوصیات الگ الگ ہیں اس لیے ان کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار بھی متعلقہ مالیاتی سرگرمیوں کی نوعیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے ذریعے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک قائم کیا ہے جس کے تحت پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی(پی وی اے آر اے)کو ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو لائسنس جاری کرنے اور ان کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اب اس فریم ورک کو موثر بنانے کے لیے مستعد نگرانی اور متعلقہ اداروں کے درمیان واضح رابطہ کاری ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے پی وی اے آر اے سے لائسنس یافتہ اداروں کو مخصوص شرائط کے تحت بینکاری خدمات کی فراہمی کی اجازت دینے کا راستہ فراہم کیا ہے جس میں صارفین کی جانچ پڑتال اور ان کے فنڈز کو الگ رکھنے کی شرائط شامل ہیں،

این او سی رکھنے والے اداروں کے اکائونٹس کا دائرہ کار محدود ہے جبکہ بینکوں پر زرمبادلہ کے ضوابط اور دیگر متعلقہ قوانین کی پابندی لازم ہے، بینکوں کو اپنے فنڈز یا صارفین کے ڈپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ، پاکستان کو پابندیوں اور ضابطہ جاتی ابہام سے نکال کر قانونی اور زیر نگرانی نظام کی طرف لانے کے لیے پیورانے اہم پیش رفت کی ہے ۔انہوں نے اس حوالے سے سٹیٹ بینک پاکستان اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل کوآپریشن ڈے کے موقع پر بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل کے موضوع پر مکالمے کی مشترکہ میزبانی کی جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئی ٹیکنالوجیز حقیقی معاشی ضروریات پوری کریں اور ان کے ساتھ مضبوط حفاظتی انتظامات بھی موجود ہوں، پاکستان کی جانب سے جی 24 کی صدارت سنبھالنا بھی عالمی جنوب کے ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کو بین الاقوامی پالیسی مباحثے میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

انہوں نے بینکوں کی قیادت پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں عملی اور قابل عمل تجاویز پیش کریں، متعلقہ ٹیکنالوجیز میں مہارت پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری کریں اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر اپنے دائرہ اختیار میں قابل اجازت سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔ وزیر خزانہ نے سائبر سکیورٹی کو ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا اہم ترین تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں سائبر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے چوبیس گھنٹے خطرات موجود ہیں، اس صورتحال میں کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں، بینکوں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام کو موثر بنانے اور سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ابھرتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان میں فائیوجی سپیکٹرم کی نیلامی، راست جیسے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ترقی مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات ہیں، ان اقدامات کے ذریعے مالیاتی خدمات کی رسائی اور کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے تقریب کے منتظمین، لمز کی قیادت، پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور بینکاری شعبے کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس مکالمے کے نتیجے میں تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل کے حوالے سے نتیجہ خیز تجاویز سامنے آئیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں