لاہور (رپورٹنگ آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے سینٹ اور قومی اسمبلی میں حکومتی، اتحادی اور اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان و تمام ارکین کو خط لکھ کر پٹرولیم لیوی کے خاتمے، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اورخیبرپختونخواہ میں آئینی و جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے مشترکہ پارلیمانی کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید معاشی دباؤ اور غیر یقینی سیاسی صورت حال سے دوچار ہے۔
ایک طرف مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور بارہ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ اور آئینی و جمہوری نظام کی معطلی کے حکومتی اعلانات نے غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکین کو آئین، جمہوریت، عوامی حقوق اور پارلیمان کے وقار کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اس کا بوجھ صرف گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مالکان تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، خوراک، زراعت، صنعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ذریعے پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو عوامی مفاد میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے قانون سازی کا اختیار استعمال کرنا چاہیے۔ پارلیمنٹ نیلیوی کی بالائی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دے کر اپنے کردار کو کمزور کیا ، ارکان پارلیمنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
اگر پارلیمان ماضی میں عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کر سکتی تھی تو اب بھی اپنے آئینی اور قانونی اختیار کے ذریعے پٹرولیم لیوی ختم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کر سکتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی اس مشکل وقت میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کر چکی ہے۔ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بھی ایسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے ذریعے پٹرولیم لیوی کے خاتمے سے ہونے والی آمدن کی کمی پوری کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول، حکومت کو غیر ضروری اخراجات اور مالیاتی بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے لیے بھی اقدامات کرنے چائیے۔خط میں خیبر پختونخوا کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وہاں پہلے ہی غیر یقینی صورت حال موجود ہے اور گورنر راج اور بارہ اضلاع میں ہنگامی صورتحال کے نفاذ جیسے اقدامات سے سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں غیر معمولی اقدامات کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔امیر جماعت اسلامی نے پارلیمانی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں مشترکہ مؤقف اختیار کریں، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی قانون سازی کریں اور آئینی و جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمانی قیادت اس قومی مسئلے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی ریلیف اور جمہوری استحکام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔








