نہال ہاشمی 8

مسلم دنیا کی جامعات میں علمی اور تجارتی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، گورنر سندھ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) گورنر سندھ سید محمد نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ مسلم دنیا کی ترقی، خوشحالی اور خودمختاری کے لیے اتحاد، تعلیم، تحقیق اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اسلامی ممالک کی جامعات کو جدید علوم، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہیے۔وہ جامعہ الغزالی میں مسلم دنیا کی جامعات کے چانسلرز، وائس چانسلرز اور ریکٹرز کے سربراہی اجلاس کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے امت مسلمہ کے اتحاد، علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ، تجارتی روابط کے استحکام اور عالمی امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔گورنر سندھ نے جامعہ الغزالی کے چانسلر مفتی عبدالرحیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے علمائے کرام اور اسلامی دنیا کی علمی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اہم کام کیا ہے۔ ان کے مطابق کراچی میں علمی قیادت کا یہ اجتماع مسلم دنیا کے تعلیمی اداروں کو قریب لانے اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم اور تعلیمات نبوی ? اتحاد، بھائی چارے، امن اور محبت کا درس دیتی ہیں۔ مسلمان ایک قوم ہیں اور ان کی کامیابی باہمی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد میں ہے۔ مسلم دنیا کو اپنے علمی ورثے سے استفادہ کرتے ہوئے جدید علوم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے عربی زبان سیکھنے اور سمجھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ اسلامی تعلیمات سے بہتر طور پر استفادہ کیا جا سکے۔سید محمد نہال ہاشمی نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔

جامعات کا مقصد محض ڈگریاں دینا نہیں بلکہ باصلاحیت، ذمہ دار اور باشعور نسل تیار کرنا بھی ہے، جو معاشرے میں امن، برداشت اور رواداری کو فروغ دے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے نتیجے میں مسلم دنیا کی جامعات کے درمیان تعلیمی اور تجارتی وفود کے تبادلے، اساتذہ و طلبہ کے تبادلے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تعلیمی شراکت داریوں کی راہ ہموار ہوگی۔گورنر سندھ نے کہا کہ امن کے قیام اور غربت کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور دنیا میں امن، سلامتی اور محبت کے فروغ پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کی رہنمائی اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں مسلح افواج کی امن کے لیے کوششوں کا بھی ذکر کیا۔غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصر، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک فلسطینی عوام کی مدد اور داد رسی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

مسلم دنیا کو مظلوم انسانوں کی حمایت اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ کی جامعات کے لیے یہ اہم موقع ہے کہ وہ عالم اسلام کے تعلیمی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط کریں اور عالمی علمی نیٹ ورک کا حصہ بنیں۔ علم، تحقیق، تجارت اور باہمی تعاون کے ذریعے مسلم دنیا ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں حاصل کر سکتی ہے۔انہوں نے جامعہ الغزالی کی انتظامیہ اور مفتی عبدالرحیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کو محض ایک تقریب تک محدود رکھنے کے بجائے دیرپا علمی تعاون اور عملی شراکت داری میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور عالم اسلام کی جامعات کے درمیان تعاون بڑھا کر نئی نسل کے لیے تعلیم، تحقیق اور ترقی کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں