احسن اقبال 22

پائیدار ترقیاتی پالیسیوں کا تسلسل اور استحکام عالمی غیر یقینی صورتحال، ابھرتی ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے، احسن اقبال

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے عالمی حالات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، موسمیاتی تبدیلیوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پائیدار ترقیاتی پالیسیوں کا تسلسل، ادارہ جاتی استعداد میں اضافہ اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے ممالک کو پیشگی تیاری، معاشی استحکام اور مستقبل بین منصوبہ بندی کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام منعقدہ 29ویں پائیدار ترقی کانفرنس اور چوتھی پائیداری سرمایہ کاری نمائش سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجیز اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں اور معاشروں کو بنیادی طور پر متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث ممالک کو روایتی طرزِ فکر سے آگے بڑھ کر فعال، مربوط اور مستقبل پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تبدیلی ایک اٹل حقیقت ہے اور اقوام کے پاس دو راستے ہیں؛ یا تو وہ تبدیلی سے خوفزدہ ہو کر اس کے منفی اثرات کا سامنا کریں یا بروقت اور مؤثر حکمت عملی اپنا کر ان چیلنجز کو ترقی کے نئے مواقع میں تبدیل کریں۔ پاکستان کی تکنیکی ترقی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، سائبر سیکیورٹی، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے قومی مراکز قائم کیے ہیں تاکہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور انہیں مستقبل کی عالمی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔عالمی سیاست اور معاشی استحکام کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ روس یوکرین جنگ سمیت مختلف عالمی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

ان کے اثرات توانائی کی منڈیوں، غذائی تحفظ، بین الاقوامی تجارت اور عالمی رسدی زنجیروں (سپلائی چینز) تک پھیل چکے ہیں، جبکہ تنازعات کے جغرافیائی مراکز سے ہزاروں میل دور واقع ممالک بھی ان کے معاشی اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالمی سیاست محض سفارتی اور تزویراتی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ اور معیارِ زندگی تک پہنچ رہے ہیں۔ دنیا کے کسی دوسرے خطے میں ہونے والا تنازع پاکستان کے کسان کے لیے کھاد مہنگی کر سکتا ہے اور عام شہری کے لیے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ صورتحال عالمی معیشت کے باہمی انحصار اور ربط کی واضح عکاسی کرتی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی اور معاشی صف بندی میں تبدیلیاں ترقیاتی ترجیحات کو ازسرنو تشکیل دے رہی ہیں، جبکہ عالمی رسدی زنجیروں کی تشکیل اب محض لاگت اور معاشی افادیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تزویراتی اور سیاسی مفادات کو بھی مدنظر رکھ کر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی پذیر ممالک کو بدلتے عالمی حالات میں اپنی مسابقت برقرار رکھنے کے لیے معاشی لچک اور استحکام پیدا کرنے، برآمدات میں تنوع لانے، بین الاقوامی شراکت داری کو وسعت دینے اور علاقائی روابط کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔عالمی مالیاتی نظام کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دنیا میں اربوں افراد ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں قرضوں کی ادائیگی اور سود کی مد میں ہونے والے اخراجات صحت اور تعلیم کے شعبوں کے بجٹ سے بھی تجاوز کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ترقی پذیر ممالک کی مالیاتی گنجائش محدود کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں انسانی ترقی، بنیادی ڈھانچے اور پائیدار معاشی نمو کے لیے درکار سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش قرضوں کے مسائل کے مؤثر حل کی ضرورت پر زور دیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی بیرونی دھچکے یا عالمی بحران کے اثرات کا انحصار صرف اس کی شدت پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کوئی ملک اس سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہے۔ برآمدات میں تنوع، افرادی قوت کی مہارتیں، مضبوط ادارے اور تکنیکی استعداد ایسے بنیادی عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کی بحران برداشت کرنے اور بحالی کی صلاحیت کا تعین کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متنوع معیشتوں، مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے اور ہنرمند افرادی قوت کے حامل ممالک عالمی معاشی اتار چڑھاؤ کا بہتر مقابلہ کرنے اور مشکلات کو نئے مواقع میں تبدیل کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔پروفیسر احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی مقامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے فروغ اور اداروں کو مزید مضبوط بنا کر اپنے مستقبل کی تشکیل خود کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی خود انحصاری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے پائیدار اور جامع ترقی کی بنیاد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں