اعظم نذیرتارڑ 13

وکلا کا بنیادی مقصد اپنے پیشے کی عزت، وقار اور اخلاقی اقدار کا تحفظ ہونا چاہیے،وفاقی وزیر قانون

راولپنڈی(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت اور وکلا کا رشتہ حکومتوں اور وزارتوں کا نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ وابستگی کا ہے، وکیل کا یونیفارم اس کی شخصیت کا حصہ ہے اور یونیفارم کی عزت میں ہی وکیل کی عزت ہے، وکلا کا بنیادی مقصد اپنے پیشے کی عزت، وقار اور اخلاقی اقدار کا تحفظ ہونا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ ان کا ہمیشہ موقف رہا ہے کہ بار کی سیاست کو قومی سیاست سے الگ رکھا جائے، سیاست اور سیاسی وابستگی ہر شخص کا آئینی حق ہے، ہر شخص کا کہیں نہ کہیں سیاسی طور پر لگاؤ ہوتا ہے تاہم بار اور وکلا کے معاملات میں پیشہ ورانہ مفادات اور وقار کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ہی گھر کی صفائی اور حفاظت کرنا چھوڑ دی تھی، ہمارا پہلا مقصد اپنے گھر کی حفاظت اور بہتری ہے، دس سال بعد سب یاد کریں گے کہ جو اصلاحات ہم نے کیں وہ کتنی سودمند تھیں۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ راولپنڈی اور اسلام آباد بارز سے انہیں طاقت ملتی ہے، پی ڈی ایم کے دور حکومت میں لائرز پروٹیکشن ایکٹ بنایا گیا جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے بار کونسلز کی سالانہ گرانٹ بڑھا کر 80 کروڑ روپے کر دی گئی ہے جس کا حساب موجود ہے، پنجاب حکومت نے بھی صوبائی بارز کی گرانٹ ڈبل کرکے ایک ارب روپے تک کر دی ہے۔26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اس معاملے میں ہم نے 20 سال قبل ہی سیکھ لیا تھا۔ پاکستان ایک فیڈریشن ہے، کیا حرج تھا کہ پہلے ہی وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی جاتی جس میں ہر صوبے کی برابر نمائندگی ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ کسی صوبے سے چار ججز نہیں ہو سکتے، ہر صوبے سے تین اور ایک جج اسلام آباد سے ہوگا۔ آئین کی تشریح کے معاملات آئینی عدالت کے سپرد کر دیئے گئے ہیں جبکہ 27ویں ترمیم میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ کس عدالت نے کون سے مقدمات کی سماعت کرنی ہے، اب اس بحث کو مزید الجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ بار کے تحفظ اور عزت کے لیے تمام وکلاء کو اکٹھا ہونا ہوگا۔کچہری چوک کی ری ڈیزائننگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے معاملات بغیر کسی شور شرابے کے حل ہوئے، آئندہ ہفتے دو کروڑ روپے ہائیکورٹ بار کے اکائونٹ میں منتقل ہو جائیں گے تاکہ زیر تکمیل منصوبے جلد مکمل کیے جا سکیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائیکورٹ میں راولپنڈی کے ججز کے لیے لاہور سے امیدواروں سے پہلے کوشش کریں گے۔اس موقع پر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے صدر سعید یوسف خان نے وکلا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہونے والی قانون سازی میں بار کے کردار کو شامل کیا جائے، دور کے علاقوں سے آنے والے وکلاء کے لیے ای فائلنگ کی سہولت ہونی چاہیے، اس سے ہائیکورٹ میں پارکنگ، فیول اور سڑکوں کے مسائل میں کمی آئے گی۔

سعید یوسف خان نے کہا کہ کالا کوٹ پہن کر کسی کا جانبدار نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے وکلا سے اپیل کی کہ بار کے انتخابات کو دشمنی نہ بنایا جائے اور انتخابی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے۔قبل ازیں وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں نئے تعمیر شدہ ہالز کا افتتاح کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں