سپریم کورٹ آف پاکستان 16

وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کا ترمیم شدہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے،اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدرری نے کہا کہ ایکٹ ابھی کابینہ سے منظور ہوا ہے، بہتر ہے صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے، وفاق کے پاس ترمیم شدہ پولیس ایکٹ پر بہت آپشنز ہیں، یہ پولیس ایکٹ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کے پی حکومت نے صرف آئی جی کے اختیارات واپس نہیں لیے بلکہ پوری کمانڈ تباہ کردی ہے، مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آرہا ہے، وزیراعلی سہیل آفریدی نے اختیار اپنی جیب میں اور اپنی سیاسی جماعت کے تابع کرنے کی کوشش کی۔وزیر مملکت نے کہا کہ خیبرپختونخوا 15، 20 سال سے دہشتگردی کی جنگ لڑرہا ہے مگر وہاں سی ٹی ڈی کرائے کی عمارتوں میں ہے،

آپ کہتے ہیں صوبائی وزیر اٹھایا گیا ہے، اگر آپ اتنے بے بس ہیں تو کیوں کرسی سے چپٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے سوال کیا ہے کہ اب خیبر پختون خوا پولیس کا کوئی اسٹرکچر برقرار رہے گا؟مجوزہ پولیس ایکٹ میں سیاسی عمل دخل واضح نظر آ رہا ہے، اگر ڈی ایس پی اپنی مرضی کے لگائیں گے تو اپنے گھر سے بھرتیاں کریں گے؟وزیرِ مملکت نے کہا کہ ان کے بانی سبق پڑھاتے تھے اور مغرب کی مثالیں دیتے تھے کہ ادارے سیاست سے پاک ہوں، پولیس کا کام امن و امان برقرار رکھنا ہے۔اسلام آباد میں راستوں کی بندش سے متعلق طلال چوہدرری نے کہا کہ اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے کھلے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں