کراچی (رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے گریڈ 19 کے تین افسران کے تبادلے اور جونیئر افسران کو عبوری چارج دینے کے خلاف درخواست نمٹا دی۔
سماعت کے دوران صوبائی وزیر محنت اور چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ سعید غنی عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل احتشام ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سعید غنی نے عدالتوں کے خلاف بیان دیا ہے، لہذا ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔عدالت میں سعید غنی نے موقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران کے خلاف 25 ارب روپے کی مبینہ کرپشن کا معاملہ سامنے آیا ہے اور وہ ذاتی طور پر ایسے معاملات برداشت نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون اجازت دیتا تو وہ متعلقہ افسران کو ملازمت سے فارغ کرکے قانونی کارروائی بھی کرتے، تاہم قانونی تقاضوں کے تحت انہیں صرف معطل اور منتقل کیا گیا۔
جسٹس سلیم جیسر نے ریمارکس دیے کہ عدالت بھی کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی حامی ہے، تاہم قانونی تقاضے پورے ہونا ضروری ہیں۔ جسٹس بھنبھرو نے ریمارکس دیے کہ ہٹائے گئے افسران کی جگہ تعینات افراد متعلقہ عہدوں کے اہل نہیں۔عدالت نے ہدایت دی کہ اگر افسران کی کمی ہے تو نئی بھرتیاں یا دیگر محکموں سے تقرریاں کی جائیں لیکن سینئر اور اہل افسران کو ذمہ داریاں دی جائیں۔بعد ازاں سعید غنی نے پرانا حکمنامہ واپس لینے اور قانون کے مطابق نئے انتظامات کی یقین دہانی کرائی جس پر درخواست نمٹا دی گئی۔









