ملک محمد احمد خان 16

نئے صوبے بنانے سے پہلے سیاسی و انتظامی معاملات اور منصفانہ تقسیم پر بات ہونی چاہیے’ اسپیکر پنجاب اسمبلی

لاہور(رپورٹنگ آن لائن )اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے حقوق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق معاملات پر بات چیت ہونی چاہیے ،نئے صوبوں کا قیام ایک طویل اور وقت طلب عمل ہے جس میں انتظامی و سیاسی امور سمیت ممکنہ ردعمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا،محسن نقوی کا موقف اس بات پر مبنی ہے کہ تمام شہریوں کو برابر حقوق ملنے چاہئیں،موجودہ انتظامی بندوبست میں ہر شہری کو اس کے حقوق اور وسائل نہیں مل رہے ، یہ موقف کس حد تک درست ہے اس پر بات چیت ہونی چاہیے،اگر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کے لیے بہت سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔

اس عمل میں انتظامی اور سیاسی عہدوں، انتظامات، سیاسی جماعتوں کے فیصلوں اور سندھ اسمبلی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد جیسے ممکنہ ردعمل کا جائزہ لینا ہوگا۔ یہ فیصلہ ایک دن میں نہیں ہوسکتا بلکہ اس کی تفصیلات طے کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ ملک محمد احمد خان نے کہاکہ یہ قیادت کا اختیار ہے کہ وہ اس معاملے پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔ قیادت کسی معاملے پر الجھن کا شکار نہیں ہوتی بلکہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے میں وقت لیتی ہے، اور نئے صوبوں کا معاملہ بھی ایسا نہیں جس پر عجلت میں فیصلہ کیا جائے۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور ممکنہ احتجاج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایک سیاسی جماعت کے قائد پر مقدمات ہیں جنہیں وہ سیاسی مقدمات قرار دیتے ہیں جبکہ میرے خیال میں یہ جرائم ہیں،پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ معاملہ جرم ہے یا سیاست، اس کے بعد ہی آگے بات ہوسکتی ہے۔کسی کے گھر کو جلانا، ایک ہی دن میں 29چھائونیوں پر حملہ کرنا، کور کمانڈر کا گھر جلانا، قلعہ بالاحصار کو آگ لگانا اور ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو نقصان پہنچانا کیا سیاست ہے؟،ریڈیو پاکستان پشاور پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا آرکائیو تھا، جسے نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح میانوالی، سرگودھا اور شہدا ء کے مجسمے جلانا اور پاکستان کے پرچم کو آگ لگانا بھی سیاست نہیں بلکہ پاکستان پینل کوڈ میں درج جرائم ہیں۔

ملک محمد احمد خان نے کہاکہ وہ یہ فیصلہ کرنے والے نہیں کہ کسی کو کتنی سزا ملنی چاہیے، کیونکہ اس کا فیصلہ عدالتیں کریں گی تاہم اگر انہیں عدالت میں مقدمہ لڑنا ہو تو وہ ہر جج کے سامنے دلائل کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے سنگین جرائم پہلے نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ کسی غریب آدمی کی جھونپڑی جلانے پر بھی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 436کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے اور اس کی ضمانت آسانی سے نہیں ہوتی، تو پھر پورے پاکستان کو جلانے کے واقعات میں بھی عدالتوں کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

27ستمبر کے احتجاج اور خیبر پختونخوا ہ کے وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آنے اور دارالحکومت کو سومنات بنانے کے بیان سے متعلق سوال پر ملک محمد احمد خان نے کہاکہ ناعاقبت اندیشی کے نتیجے میں ایسے جرائم ہو رہے ہیں جن کی سزا آنے والی نسلیں بھگتیں گی۔ملک محمد احمد خان نے خبردار کیاکہ اگر جتھہ بندی اور حملوں کو سیاست تسلیم کرلیا گیا تو مستقبل میں نجی ملیشیاز بھی سامنے آسکتی ہیں،کل کو کوئی جماعت خاکی وردی یا ملیشیا کی وردی پہن کر نکل سکتی ہے اس لیے ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ 6سے 8 مرتبہ حملوں کا ایک ہی عمل دہرانا اور مسلح جتھوں کو دارالحکومت میں لاکر کارروائی کرنا کسی صورت سیاسی طریقہ نہیں ہوسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں