الزام عائد 195

میانمار، آنگ سان سوچی پر الیکشن میں دھاندلی کا الزام عائد

ینگون (رپورٹنگ آن لائن)میانمار کی جنتا نے آنگ سان سوچی پر سال 2020 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کردیا، سرکاری میڈیا کے مطابق ان کی پارٹی کی بھاری اکثریت سے فتح کے بعد یہ الزامات تازہ ترین ہیں۔ فروری سے ملک بھر میں احتجاج اور مخالفین کے خلاف فوج کے جان لیوا کریکٹ ڈائون کے بعد ہنگامے برپا ہیں۔غداری کے الزام کے بعد زیر حراست 76 سالہ آنگ سان سوچی پر غیر قانونی واکی ٹاکیز برآمد ہونے، بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات لگائے گئے ، اور اگر یہ جرم ثابت ہوگیا تو انہیں کئی سال تک جیل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آنگ سان سوچی اب الیکشن میں دھاندلی اور غیر قانونی عمل کی بھی ملزمہ ہیں۔تاہم عدالتی کارروائی کی تاریخ کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سوچی کے علاوہ دیگر 15 عہدیداران پر بھی اس ہی نوعیت کے الزامات لگائے ہیں، ان میں الیکشن کمیشن کے سابق چیئرمین اور سابق صدر ون مائنٹ بھی شامل ہیں۔سوچی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی(این ایل ڈی)کو 2015 کے مقابلے 2020 میں زیادہ ووٹ سے حمایت حاصل ہوئی، جس کے بعد انہوں نے فوجی کی حمایت یافتہ جماعت کو شکست دی۔لیکن جنتا نے اقتدار میں قبضہ حاصل کرنے کے لیے انتخابات میں دھاندلی کا حوالہ دیا جس کی وجہ سے میانمار میں جمہوری دور کو ختم کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں