اقوام متحدہ 12

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تحت یمن تنازع کو حل کرنا چاہیئے، چینی نمائندہ

اقوام متحدہ (رپورٹنگ آن لائن) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے امور پر غور و خوض کیا۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندہ فو چھونگ نے کہا کہ ستمبر سے یمن کی زمینی صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور جنگ مزید شدت کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس کے منفی اثرات تیزی سے آبنائے باب المندب اور خطے کے ممالک تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال کی کشیدگی کو جلد از جلد کم کرنا چاہیئے اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی مضبوطی سے پاسداری کرتے ہوئے تنازع کے سیاسی حل کے راستے پر واپس آنا چاہیئے۔

فو چھونگ نے کہا کہ یمن کے امور کا خطے کے دیگر امور سے گہرا تعلق ہے۔ اس کے مکمل حل کے لئے مشرق وسطی کی صورتحال کے تحت مجموعی سوچ کے ساتھ مربوط انداز میں پیش رفت کرنی چاہیئے اور عام شہریوں کے جان و مال کی ہر صورت حفاظت ہونی چاہیئے۔اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے نے کہا کہ چین نے مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ سلامتی کو فروغ دینے کے لیے چار نکاتی تجاویز پیش کیں، جن میں خطے کی مشترکہ سلامتی کی جامع حکمرانی کو آگے بڑھانے کی اپیل کی گئی، اور خطے کے ممالک کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے نئے سلامتی کے فریم ورک کی تعمیر پر غور کرنے کی حمایت کی گئی۔ ان تجاویز نے یمن کے مسئلے سمیت خطے کے دیگر اہم مسائل کے حل کے لیے نئی راہیں فراہم کی ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں