لاہور(رپورٹنگ آن لائن)پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ حکومت چینی کے بحران کا بھی حساب لے ، کمزورآدمی ہوں پیکا ایکٹ کے ڈر سے نہیں بولتا،لاہور میں بیٹھے کئی افراد کو بھٹو خاندان سے بعض ہے اور بغض بے نظیر کا کوئی علاج نہیں۔
پی پی سیکرٹریٹ لاہور میں فیصل میر،رانا جواد،نایاب جان،احسن رضوی کیساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ لوگوں کی آواز بننا ہمارا فرض ہے ، اس میں اہم کردار میڈیا پرسن ادا کر رہے ہیں۔ ہم حکومت کے اتحادی ہیں جس کا اکثر طعنہ ملتا ہے ، حکومتی اتحاد کے وقت ہمارے درمیان چودہ نکات پر معاہدہ ہوا تھا، ہمارے اتحاد کا اہم نکتہ تھاکہ ایک سال میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے .
اگر لوکل نمائندے ہوتے تو سیلاب سے یہ حال نہ ہوتا ، کیا آئی ایم ایف نے بلدیاتی انتخابات کروانے سے روکا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کہا گندم کسان کی بیک بون ہے ، کسان کو پیسے نہ دے کر آج گندم امپورٹ کر رہے ہیں ، انڈیا کسانوں کو بیس ہزار فی ایکڑ دے رہا، وہاں کھاد سستی، بجلی فری ہے ۔ لاہورکے سیاستدان بینظیر انکم سپورٹ کے ڈیٹا کااستعمال بی بی کی فوٹو کی وجہ سے نہیں کر رہے۔
ن لیگ انگلیاں توڑنے کی بات کر لے مگر کسان کا سوچے ، میری زبان کٹ تو سکتی ہے رک نہیں سکتی،آپ کے ترجمان جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ آپ جانیں یا پی ٹی آئی والے ۔ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ لیگی ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ پیکا ایکٹ کے تحت میرے خلاف کارروائی کریں گے ، بیوروکریسی کی لڑائی اور ٹرانسفر پوسٹنگ پر اس لئے میں بات نہیں کر پا رہا ۔ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے باعث معاشرے کا ہر ذی شعور فرد ذہنی دباؤ کا شکار ہے .
یہاں اصل فیصلہ بیوروکریٹ یا جاتی امراء والے کرتے ہیں ،سیاسی لوگ نہیں،بابوں والا ماڈل اپنائیں گے تو وہ کامیاب نہیں ہو گا۔بی آئی ایس پی کا ساڑھے 3کروڑ کا ڈیٹا تحصیل لیول تک استعمال کریں، سیلاب زدہ علاقوں کے کاشتکاروں کی بحالی کیلئے حکومت بابووں کی بجائے کسانوں کے ساتھ مشاورت کرے ۔ پنجاب حکومت سیلاب زدہ کاشتکاروں کی بحالی کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام کرتی دکھائی نہیں دے رہی ۔انہوں نے کہا پنجاب ہماری بنیاد اور صوبہ ہے جہاں آواز اٹھانا جرم بن چکا ہے ۔ ہماری گزارشات کو اپنی بے عزتی مت سمجھیں، عوام بہت تنگ ہیں۔









