اسلام آباد(رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں قیمتی پتھروں کی کان کنی اور پراسیسنگ کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنانے اور برآمدات میں اضافے کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت یقینی بنانے پر زور دیاہے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قیمتی پتھروں کے شعبے کی ترقی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہواجس میں ملک میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات بڑھانے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزرا، اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، بالخصوص قیمتی پتھروں کی دولت سے مالا مال ہے اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے معاون خصوصی ہارون اختر اور ان کی ٹیم کی جانب سے شعبے کی ترقی کیلئے کیے گئے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے بعد برآمدات بڑھانے کیلئے وزارت منصوبہ بندی فوری طور پر ایک جامع لائحہ عمل تیار کرے اور اسے جلد پیش کیا جائے۔انہوں نے سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام میں شفافیت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت قیمتی پتھروں کی کٹائی، تراش خراش اور زیورات سازی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے 3سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں ان مراکز کیلئے اراضی مختص کی جا چکی ہے، جبکہ اسلام آباد میں ایک اور مرکز کے قیام کے لیے اقدامات جاری ہیں۔حکام کے مطابق ان مراکز میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ مقامی افرادی قوت کو جدید مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے، اس کے علاوہ جولائی 2026میں پاکستان میں قیمتی پتھروں کی پہلی بین الاقوامی نمائش کے انعقاد کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اجلاس کوبتایا گیا کہ سری لنکا اور چین کے تعاون سے مخصوص قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے تربیتی پروگرامز شروع کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزارت پیٹرولیم کم سے کم ضیاع کے ساتھ کان کنی کے جدید طریقوں کو فروغ دے رہی ہے، مقامی آبادیوں کو اعتماد میں لے کر شراکتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں اور ایک ہزار افراد کو عالمی معیار کے مطابق کان کنی کی تربیت دی جا رہی ہے۔وزیر اعظم کو منصوبوں کی پیش رفت اور تکمیل کے شیڈول سے بھی آگاہ کیا گیا۔انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ قیمتی پتھروں کے شعبے کو برآمدی معیشت کا اہم حصہ بنانے کیلئے مربوط اور عملی اقدامات کیے جائیں۔









