اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ غیر محفوظ خوراک سے پیدا کردہ بیماری اور غذائی قلت کا سد باب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے،ملکی زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، آبادی میں اضافہ، خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے،وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مضبوط غذائی تحفظ، زرعی پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی اثرات کی کمی کیلئے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اقدامات کر رہی ہے۔
تخفظ خوراک کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں انہوںنے کہاکہ تخفظ خوراک کے عالمی دن پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر بیماریوں اور آلودگی کے خطرات سے محفوظ اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے مشترکہ اور بامقصد ہدف کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ زراعت اور غذائی نظام و ترسیل سے وابستہ ہر فرد بشمول کاشتکار، مویشی پال، ماہی گیر، محققین، تحفظ خوراک کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آج ہم ان کی بے مثال خدمات اور کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عالمی یوم تحفظ خوراک اقوام متحدہ کی سرپرستی اورعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور خوراک و زراعت کی تنظیم (ایف اے او) کی مشترکہ قیادت میں منایا جاتا ہے،یہ دن بذریعہ خوراک ممنکہ بیماریوں اور خطرات کی روک تھام، انکی بروقت نشاندہی اور مؤثر انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
رواں سال کا موضوع ”بوجھ سے حل تک۔ہر جگہ محفوظ خوراک”ہے۔بیان کے مطابق رواں سال خصوصی طور پر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں، اموات اور صحت عامہ پر ان کے اثرات کے عالمی، علاقائی اور قومی تخمینہ کی جامع رپورٹ بھی شائع کی گئی ہے، رپورٹ کے ہوش ربا انکشافات مطابق دنیا میں سالانہ 866 ملین افراد آلودہ خوراک کے باعث بیمار اور ہر سال تقریباً 15 لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ مزید براں دنیا بھر کی پیداواری صلاحیت میں کمی، طبی اخراجات، معاشی نقصانات، سماجی مسائل، سیاحت وتجارت کی تنزلی اسکے علاوہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ خوراک سے وابستہ خطرات کے عالمی اعداد و شمار کا ایسا مستند و جامع تجزیہ، ممالک کو عوامی صحت کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی، وسائل اور ضروری مداخلتی اقدامات کی ترجیحات کا تعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ غیر محفوظ خوراک سے پیدا کردہ بیماری اور غذائی قلت کا سد باب ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان زرخیز زمین، محنتی کسان اور زرعی صلاحیتوں و وسائل سے مالا مال ملک ہے تاہم ملکی زراعت کو جامع تحقیق کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، آبادی میں اضافہ، خوراک کے بدلتے رجحانات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ان مسائل کے حل کیلئے مربوط اور متقاضی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔انہوںنے کہاکہ وفاقی وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، مضبوط غذائی تحفظ، زرعی پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی اثرات کی کمی کیلئے زرعی تحقیق اور ٹیکنالوجی پر مبنی جامع اقدامات کر رہی ہے، ان اقدامات میں معیاری بیجوں کی فراہمی، زرعی خام اجزاء کی بہتر دستیابی، زرعی مشینری کا استعمال، ویلیو چینز کی مضبوطی، ذخیرہ کاری اور منڈیوں کے نظام میں بہتری شامل ہے۔
انہوںنے کہاکہ خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے حاصل شدہ علم اور تجربات سے حکومتی سطح پر استفادہ اورصارفین کی سطح پر خوراک کے صفائی، معیاری انتظام اور پکانے کے بنیادی اصولوں سے غذائی خدشات سے موثر انداز میں نبرد آزما ہوا جا سکتا ہے اس اہم موقع پر میں وفاقی و صوبائی حکومت، کسان، جامعات، تحقیقی اداروں، نجی شعبے، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ، ترقیاتی شراکت داروں اور ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ محفوظ، مضبوط اور صحت افروز غذائی نظام کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔آئیے آج خوراک اور قدرتی وسائل کی قدر اور تحفظ کا تجدید عہد کریں تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ، غذائیت سے بھرپور، پائیدار اور خود کفیل غذائی مستقبل میسر ہو سکے۔









