رانا ثناء اللہ 10

عوامی ایکشن کمیٹی کیساتھ معاہدے میں شامل نکات پر پیش رفت جاری ہے ،مہاجرین نشستوں کا فیصلہ آئندہ اسمبلی کا دائرہ اختیار ہے ، رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا ء اللہ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے میں شامل عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے تمام نکات پر پیش رفت ہو رہی ہے تاہم وہ جتھے برداری اور جلائو گھیرائو کے ذریعے لشکر کشی سے وہاں کے عام انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں،آئینی معاملات کا حل جلائو گھیرائو، جتھہ بندی کے کلچر سے نکالنا درست عمل نہیں،

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس، تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی کانفرنس اور قانون ساز اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے حوالے سے فیصلہ آئندہ معرض وجود میں آنے والی اسمبلی کا دائرہ اختیار ہے، حکومت مولانا فضل الرحمن کی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ثالثی کا خیر مقدم کرے گی، ہم نے ہمیشہ مولانا فضل الرحمن کی حکمت و دانش سے استفادہ کیا ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے ایوان کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال عوامی ایکشن کمیٹی نے اسی طرح جلائو گھیرائو اور تشدد کا راستہ اختیار کیا اس وقت ان کے دو بڑے مطالبات تھے جن میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے وقت ہونے والے معاہدے جس ریٹ پر بجلی بنے گی اسی طرح پر آزاد کشمیر کے عوام کو فراہم کی جائے گی اور دوسرا مطالبہ گندم پر سبسڈی کا تھا اس کے ساتھ ساتھ مختلف سڑکوں، پلوں، ٹنلز ، بجلی کے نظام کی بہتری ، ہسپتالوں میں ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کی مشینوں کی تنصیب سمیت 38 مطالبات شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی قائم کی جس میں پیپلز پارٹی کے رہنما بھی شامل تھے، ہم نے مظفر آباد جا کر ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کئے اور اس دوران ان کے تمام آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح سے متعلق مطالبات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کو پچاس سال سے زائد ہوچکے ، تاہم پچاس سال بعد یہ مطالبہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے منظور کیا اور وہاں 3 روپے یونٹ بجلی اور گندم پر سبسڈی دی ان میں سے بقیہ 38 مطالبات میں سے ہر ایک پر پیش رفت ہوئی،

اس کے بعد انہوں نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہم نے انہیں کہا کہ یہ قانونی اور آئینی بات ہے اور اس کا اختیار قانون ساز اسمبلی کو ہے یہ مطالبہ دھرنوں سے حل نہیں ہو گا اس پر ایک 6 رکنی کمیٹی بنائی گئی تاہم اکتوبر 2025 سے اس کا انہوں نے بائیکاٹ کر دیا۔ جنوری 2026 میں انہوں نے یہ علم ہونے کے باوجود کہ جولائی میں عام انتخابات ہونے ہیں انہوں نے لانگ مارچ کی تاریخ 9 مارچ مقرر کی تاکہ آزاد کشمیر میں عام انتخابات کے انعقاد کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر 30 مئی کو مظفر آباد جا کر 2 دن اس پر بات کی ، 38 نکات کے ایک ایک نکتے پر بات ہوئی،

وزیراعظم آزاد کشمیر اور چیف سیکرٹری بھی موجود تھے ،انہوں نے ان نکات پر پیش رفت کو تسلیم کیا تاہم مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر اڑے رہے ،ہم نے انہیں اس حوالے سے 3آپشن دیے جن میں یہ معاملہ قانون ساز اسمبلی میں لے جانے، اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کی اے پی سی بلانے اور صدارتی ریفرنس کے ذریعے یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے رکھنے کی پیش کش کی تاہم انہوں نے اس سے انکار کیا اور بات چیت سے پیچھے ہٹ گئے ، اے پی سی میں شرکت نہیں کی۔ ہم نے انہیں بتایا کہ نشستوں کے خاتمے سے تحریک آزادی کیلئے بھی نقصان ہو گا کیونکہ مہاجرین کو اس حق سے محروم کرنے سے تحریک کے بنیادی مقصد سے انحراف ہو گا اور 5اگست 2019 کے انڈیا کے اقدام کے بعد مہاجرین نشستوں کا خاتمہ بھی اسی جانب قدم ہو گا۔

اے پی سی ، قانون ساز اسمبلی اور سپریم کورٹ سے بھی ایک ہی رائے آئی کہ یہ معاملہ قانون ساز اسمبلی میں لے جایا جائے اور نئی اسمبلی اس پر فیصلہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جتھہ کلچر اور تشدد کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے پر بضد رہے ،یہ تاثر غلط ہے کہ ان کے ساتھ ان کے مطالبات حل نہیں کئے گئے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہمیشہ ہدایت کی کہ ان سے بات کریں، تعمیر و ترقی اور بہتری کے مطالبے میرے پاس لے کر آئیں، ہر تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح کے مطالبات کو پورا کر یں گے اور ہم نے اس پر عمل بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی معاملات کا حل جلائو گھیرائو، جتھہ بندی کے کلچر سے نکالنا درست عمل نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی نے قرار دیا کہ مہاجرین نے اپنے گھر بار چھوڑے، لٹے پٹے یہاں آئے اور آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے، مقبول بٹ شہید بھی مہاجر تھے ،انہوں نے بھی مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا، مہاجرین نے آزادی کشمیر کیلئے اپنی جانوں، عصمتوں اور املاک کی قربانی دی، انہیں اس حق سے کس طرح محروم کیا جا سکتا ہے، اس حق کو ختم کرنے کا اختیار قانون ساز اسمبلی کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود ایکشن کمیٹی نے مسلح مارچ کی کوشش اور لشکر کشی کی جس کیخلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ راولاکوٹ کے علاوہ پورے کشمیر میں کہیں پر احتجاج نہیں ہو رہا، اس وقت ان کا سب سے بڑا مطالبہ انتخابات روکنے کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 38 کے بعد 8 نئے مطالبات ان کی طرف سے سامنے آئے جن میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ کاغذات نامزدگی میں یہ حلف نامہ شامل ہے کہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی کامیابی کے بعد پاکستان سے الحاق ہو گا، انہوں نے اس حلف نامے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں کیخلاف 177 ایف آئی آر درج کی گئی تھیں وہ واپس لینے سمیت عام حالات میں قبول نہ کئے جانے والے مطالبات بھی مانے گئے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے وقت ایم کیو ایم کے ساتھ 140(اے)کے حوالے سے ترمیم کی بات ہوئی جس کا مقصد بااختیار بلدیاتی نظام تھا، ایم کیو ایم ہمیشہ اس کی داعی رہی، بلدیاتی نظام کو موثر اور بااختیار بنانے پر اتفاق ہوا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایم کیو ایم کے وفد سے ملاقات میں واضح موقف اختیار کیا کہ اتفاق رائے کے بغیر کوئی ترمیم نہیں ہو گی، اتحادی جماعتوں کے یہ طے شدہ اصول ہیں، اس پر ایوان میں اجتماعی یا کم از کم اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے ،وزیراعظم نے اس حوالے سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں