ہائیکورٹ 59

عمارتوں میں آتشزدگی ، فائر سیفٹی اقدامات کیس ، درخواست گزار وکیل کو محکموں کو فریق بنانے کیلئے 10روز کی مہلت

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات، فائر سیفٹی اقدامات کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار وکیل کو محکموں کو فریق بنانے کے لئے 10روز کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات اور فائر سیفٹی اقدامات سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کی ، این ڈی ایم اے، ای پی اے، ایل ڈی اے، والڈ سٹی اتھارٹی اور ریسکیو 1122سمیت دیگر محکموں کے نمائندے بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تنظیم نو کے بعد راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی معرض وجود میں آ چکی ہے تاہم اب تک اس ادارے نے فائر سیفٹی اقدامات کے حوالے سے کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی ۔

انہوں نے استدعا کی کہ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پنجاب کے تمام کمشنرز اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے۔وکیل درخواست گزار نے مزید بتایا کہ ایک نئی بزنس ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی جا چکی ہے جو ایل ڈی اے اور روڈا کے ماتحت نہیں، اس لیے اسے بھی فریق بنانا ضروری ہے تاکہ تمام متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر فائر سیفٹی کے جامع اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ عدالت اس کیس کا جلد فیصلہ کرنا چاہتی ہے تاہم بار بار متفرق درخواستیں دائر ہونے سے کیس التواء کا شکار ہو جاتا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کسی بھی محکمے کو فریق بنانا ہے تو ایک ہی مرتبہ جامع درخواست دائر کی جائے، بعد ازاں مزید فریق شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔چیف جسٹس نے درخواست گزار وکیل کو مزید محکموں کو فریق بنانے کے لئے متفرق درخواست دائر کرنے کی 10روز کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ بار بار فریقین شامل کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کیس کو طول دینا مقصود ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں