جوڈیشل الاؤنس 17

عدالت نے اسٹیل ملز کے کوراٹرز کے رہائشیوں کی براہ راست کے ای سے بجلی کی فراہمی کی درخواست پرفیصلہ کرلیا

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان اسٹیل ملز کے کوراٹرز کے رہائشیوں کی براہ راست کے ای سے بجلی کی فراہمی کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیاہے ۔سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو پاکستان اسٹیل ملز کے کوراٹرز کے رہائشیوں کی براہ راست کے ای سے بجلی کی فراہمی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔

کے ای کے وکیل بیرسٹر ایان نے موقف دیا کہ ہم عدالتی حکم کے مطابق کم ریٹ پر بجلی فراہم نہیں کرسکتے۔ کے ای کا اسٹیل ملز یا اردگرد بجلی کی فراہمی سے تعلق نہیں۔ نیپرا سے اس بارے میں رپورٹ طلب کی جاسکتی ہے۔ درخواستگزار کے وکیل چوہدری رمضان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا کہ نیپرا کا کوئی تعلق نہیں، کے الیکٹرک پورے علاقے کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ کے الیکٹرک کا الگ ریٹ ہے جبکہ اسٹیل ملز کا الگ ریٹ ہے۔ 2025 تک کے ای کے ریٹ کے مطابق بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔ اکتوبر 2025 میں سرکلر کے ذریعے بجلی کے نرخ 2 فیصد سے بڑھاکر 102 فیصد کردیا گیا۔

عدالت نے گذشتہ سال کے الیکٹرک کو سابقہ نرخوں پر بجلی فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ عدالتی حکم عدولی پر کے الیکٹرک کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ وکیل اسٹیل ملز نے موقف دیا کہ 2015 سے اسٹیل ملز بند ہے۔ درخواستگزار نادہندہ ہیں۔ ہم نے کے الیکٹرک سے کہا ہے کہ وہ درخواستگزاروں کو براہِ راست بجلی فراہم کرے۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ 9 ہزار روپے کے بل کے ساتھ 4 ہزار روپے یہ سروس چارجز وصول کرتے ہیں۔ عدالت نے وکیل اسٹیل ملز سے استفسار کیا کہ یہ سروس چارجز کس مد میں لیے جا رہے ہیں؟کیا آپ وہاں الگ سے لائنیں بچھا رہے ہیں؟عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست خادم حسین و دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں