سندھ ہائی کورٹ 11

عارف علوی کو الاٹ گھر نہ ملنے کی درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر عارف علوی کو بطور سابق صدر الاٹ کیے گئے گھر کا قبضہ نہ ملنے سے متعلق درخواست پر فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سماعت کے دوران سابق صدر عارف علوی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ باتھ آئی لینڈ میں انہیں الاٹ کیا گیا گھر سابق کسٹمز ملازم کے قبضے میں ہے، جبکہ گھر انہیں قانون کے مطابق الاٹ کیا گیا تھا۔سابق کسٹمز ملازم شہاب امام نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ گھر انہیں بھی قانونی طور پر الاٹ کیا گیا ہے۔ ان کے پاس وزارت قانون کا خط موجود ہے جس کے مطابق انہیں 60 برس کی عمر کے بعد گھر خالی کرنا ہوگا۔شہاب امام نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق صدر کے پاس پہلے ہی کئی گھر موجود ہیں، اس لیے انہیں اس گھر کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدور کی رہائش کا معاملہ کابینہ ڈویڑن دیکھتا ہے اور اگر عارف علوی چاہیں تو انہیں اسلام آباد میں گھر دیا جاسکتا ہے۔سابق صدر عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی عہدہ ختم ہونے کے بعد عارف علوی کو مذکورہ گھر الاٹ کیا گیا تھا، تاہم گھر الاٹ ہونے کے باوجود اس کا استعمال کوئی دوسرا شخص کررہا ہے۔درخواست گزار عارف علوی کا مؤقف تھا کہ سابق صدر کی حیثیت سے رہائش ان کا حق ہے جو انہیں فراہم کی جانی چاہیے۔فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں