سندھ ہائی کورٹ 10

سندھ ہائیکورٹ کا ولیکا ہسپتال میں زیر علاج بچوں میں ایچ آئی وی پھیلاؤ کی تحقیقات کا حکم

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے کُلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے معاملے کی آزادانہ اور مکمل تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کو کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔عدالت نے سندھ حکومت کو ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے، جس کی سربراہی چیف سیکرٹری سندھ کریں گے، کمیٹی میں گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے دو سینئر افسران بھی شامل ہوں گے۔

عدالت کے مطابق ہسپتال میں اب تک کم از کم 78 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ قریبی علاقے میں سکریننگ کے دوران مزید 120 افراد میں ایچ آئی وی کی موجودگی سامنے آئی، درخواست گزار کے وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ متاثرہ بچوں کی تعداد تقریباً 200 ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہسپتال میں متاثرہ بچوں اور دیگر مریضوں کی اصل تعداد، ایچ آئی وی منتقلی کے ممکنہ ذرائع اور حالات کا تعین کرے، کمیٹی یہ بھی جائزہ لے گی کہ ڈسپوزایبل سرنجز یا دیگر طبی آلات دوبارہ استعمال، غیر مناسب طریقے سے جراثیم سے پاک کیے گئے ہیں، تاہم انفیکشن سے بچاؤ کے انتظامات، سرنجز کی خریداری، فراہمی اور استعمال کا ریکارڈ بھی دیکھا جائے گا۔

کمیٹی ہسپتال کے ڈاکٹرز، نرسنگ سٹاف، ٹیکنیکل اور انتظامی عملے کی ذمہ داری کا بھی تعین کرے گی، اس کے علاوہ 37 افسران کے خلاف پہلے سے جاری محکمانہ کارروائی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔عدالت نے کمیٹی کو تمام متعلقہ طبی رپورٹس، لیبارٹری رپورٹس، سکریننگ ریکارڈ، سرنجز کا ریکارڈ، سٹاک رجسٹر، ڈیوٹی روسٹرز اور متعلقہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کی اجازت دی ہے، کمیٹی کو دو ماہ میں رپورٹ سندھ ہائیکورٹ اور متعلقہ حکام کو پیش کرنا ہوگی۔

سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ متاثرہ بچوں اور دیگر مریضوں کا علاج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھا جائے، انہیں ادویات، ٹیسٹ، مشاورت اور دیگر ضروری طبی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی۔عدالت نے سندھ حکومت کو متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے قانون کے مطابق معاوضے یا مالی مدد کے معاملے پر بھی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں یا ان کے خاندانوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور ان کی شناخت اور طبی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا، تاہم عدالت نے محکمہ صحت اور متعلقہ حکام کو کُلثوم بائی ولیکا ہسپتال میں فوری حفاظتی اقدامات کرنے اور سرنجز کے استعمال سمیت انفیکشن سے بچاؤ کے قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ صرف انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ بچوں کے زندگی اور صحت کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، تاہم کسی فرد کو صرف الزام یا محکمانہ کارروائی کی بنیاد پر قصوروار قرار نہیں دیا جاسکتا، تاہم ذمہ داری کا فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

عدالت نے درخواست گزار کے وکیل طارق منصور کے مبینہ نامناسب رویے کا بھی نوٹس لیا، عدالتی حکم کے مطابق سماعت کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر بلند آواز میں بات کی اور ان کے ساتھ موجود افراد نے عدالت میں ویڈیوز بنانے کی کوشش کی۔عدالت نے طارق منصور کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کی ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت اور فوجداری کارروائی کیوں نہ کی جائے۔

عدالت نے واقعے کے دوران سکیورٹی میں مبینہ غفلت کا بھی نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران سے وضاحت طلب کی اور عدالت کے اندر اور باہر کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں