سندھ ہائی کورٹ 14

سندھ ہائی کورٹ کانیشنل بینک کو ملازم کا سروس ریکارڈ 30 روز میں فراہم کرنے کا حکم

کراچی(رپورٹنگ آن لائن)سندھ ہائی کورٹ نے نیشنل بینک کے ملازم کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق مقدمے میں بینک کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے 30 روز میں مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے ماتحت عدالت کو بھی مقدمے کا فیصلہ تین ماہ میں ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی کے تحت عدالت مقدمے کے کسی بھی مرحلے پر متعلقہ دستاویزات طلب کرسکتی ہے۔ بطور آجر بینک اپنے ملازمین کا اصل سروس ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند ہے اور ملازم کے مطالبے پر سروس ریکارڈ یا دیگر متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ملازم کا ریکارڈ پیش نہ کرنے سے واجبات کی ادائیگی کی ذمہ داری پوری نہ کرنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ منصفانہ سماعت کے حق کے تحفظ اور مقدمے کا منصفانہ فیصلہ کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ پر لانا ضروری ہے۔بینک کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد مکمل ہونے اور حتمی دلائل کے مرحلے پر ملازمت کا ریکارڈ طلب کیا، حالانکہ مدعی نے شہادت کے دوران ریکارڈ پیش کرنے کی درخواست دائر نہیں کی تھی۔

وکیل کے مطابق ماتحت عدالت کا حکم قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔ملازم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل بینک کے ملازم مرزا ہمایوں کو بدعنوانی کے الزام میں ملازمت سے برطرف کرنے کے ساتھ قید کی سزا بھی دی گئی تھی، تاہم اپیل میں عدالت نے انہیں بری کردیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے معطلی کے عرصے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ملازم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بینک کا متعلقہ ریکارڈ فراہم کیے بغیر واجبات کے دعوے کا منصفانہ فیصلہ ممکن نہیں۔ عدالت نے بینک کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مطلوبہ دستاویزات 30 روز میں فراہم کرنے اور ماتحت عدالت کو تین ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں