کراچی (رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قائداعظم محمد علی جناح کے 78ویں یومِ وفات پر مزار قائد پر حاضری دے کر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کسی صورت مسلط نہیں کی جاسکتی، صوبائی حدود میں تبدیلی کیلئے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے، متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر ایسا کوئی اقدام ممکن نہیں۔
مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھانے، فاتحہ خوانی اور مہمانوں کی کتاب میں تاثرات درج کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ اسمبلی اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے صوبے کی تقسیم کے خلاف متعدد بار اپنی رائے کا اظہار کرچکی ہے، عوام کی مرضی کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی آئین کے منافی اور ناقابل قبول ہوگی۔میر رضا قتل کیس سے متعلق سوال پر سید مراد علی شاہ نے تحقیقات میں حکومتی مداخلت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کیلئے معاملے کی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ جانچ کیلئے جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا ہے، میر رضا کے اہلخانہ کو انصاف دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ سرکاری افسران کے ہمراہ مزار قائد پہنچے، جہاں انہوں نے بانی پاکستان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بیماری کے باوجود انتھک جدوجہد کی اور اپنی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرتے ہوئے 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا۔انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے صرف ایک سال بعد قائداعظم ہم سے جدا ہوگئے، تاہم ان کا وڑن، اصول اور رہنمائی آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ موجودہ حالات میں قائداعظم کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے پیغام کو اپنانے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ملک کو تقسیم کرنے والی سوچ کے بجائے مشاورت اور اتفاق رائے کو فروغ دینا ہوگا، تمام فیصلے باہمی مشاورت اور آئینی طریقہ کار کے تحت کیے جائیں تاکہ پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔
قومی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ملک کی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کیا۔انہوں نے کہا کہ آج کوئی دشمن پاکستان کے خلاف جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا، ہماری بہادر مسلح افواج ملک کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت قومی قیادت نے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے اور ملکی مفادات کے تحفظ کیلئے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ علامہ محمد اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، اسے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں عوام کی جدوجہد اور قربانیوں نے حقیقت کا روپ دیا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ مضبوط، متحد اور خوشحال رکھے۔
جمہوری اقدار سے متعلق سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ آزادی اظہار جمہوریت کی بنیادی خصوصیت ہے، کسی کو اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا جاسکتا۔ اختلاف رائے کو مکالمے، برداشت اور آئینی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے، جمہوریت آزادی اظہار اور مختلف نقطہ نظر کے احترام کا نام ہے۔کاروباری حلقوں میں ملک کی صورتحال سے متعلق ہونے والی بحث پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان کو غربت، تعلیم کی کمی اور دیگر سماجی و معاشی مسائل سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم نظام کے خاتمے یا ملک کے تباہ ہونے کی باتیں نہ تعمیری ہیں اور نہ ہی مسائل کا حل۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل موجود ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ بہتر طرز حکمرانی، مضبوط اداروں اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے ذریعے ان مسائل کو حل کریں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں تقریباً دو دہائیوں سے سیاسی استحکام ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کو 2008 ، 2013 ، 2018 اور 2026 کے انتخابات میں عوام نے مسلسل مینڈیٹ دیا ہے۔ سندھ کے عوام پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے آرہے ہیں اور حکومت عوام کی رائے اور مینڈیٹ کا احترام کرتی ہے۔منشیات کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس لعنت کا خاتمہ پوری معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیس، محکمہ ایکسائز اور نارکوٹکس سے متعلق ادارے منشیات کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر آئین کی بالادستی، جمہوری طرز حکمرانی، قومی یکجہتی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔









