مرتضی وہاب 4

کراچی سے ڈالہ کلچر ختم ہونا چاہیے، مرتضیٰ وہاب

کراچی (رپورٹنگ آن لائن) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر سے ڈالہ کلچر ختم ہونا چاہیے، ہر شخص اپنا سیکیورٹی گارڈ لے کر گھوم رہا ہے، سرعام اسلحے کی نمائش کسی صورت قابل قبول نہیں۔

مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ لوگوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے شہریوں کو تکلیف میں ڈالنا درست نہیں۔ ایسی شاہراہ جس پر لاکھوں افراد کا گزر ہوتا ہے، اسے بند کرنا مناسب نہیں، کیونکہ لوگ جتنا زیادہ ٹریفک میں پھنسیں گے اتنا ہی ایندھن خرچ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں کو تکلیف میں ڈال کر سیاست کرنے کے حامی نہیں، احتجاج ہر شخص کا حق ہے تاہم اس کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ شہریوں کے مسائل حل ہونا ضروری ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ شہر کی انتظامیہ سڑکوں پر ترقیاتی کام کرتی نظر آرہی ہے، کام کرنے کے طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتا ہے، تاہم انتظامیہ نے مختلف منصوبوں کے اہداف مقرر کر رکھے ہیں اور ان پر کام جاری ہے۔

یونیورسٹی روڈ کا بڑا مسئلہ بھی اب حل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔پانی کی تقسیم کے حوالے سے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی کھینچا تانی ختم کرنا ہوگی۔ سٹی کونسل کے اجلاس میں رہنمائی کی جائے کہ پانی کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔ پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی کی بندش اور لوڈشیڈنگ کے باعث کئی علاقوں میں پانی نہیں پہنچ پاتا۔انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے سرعام اسلحے کی نمائش قابل قبول نہیں، سیکیورٹی کمپنیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت اور پولیس اقدامات کررہی ہیں۔ ہم سب کو قانون کا ساتھ دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی آمد کے موقع پر کوئی ڈالہ نہیں تھا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پانی کے ضیاع پر بھی کارروائی کرنا ہوگی، پانی ضائع ہونے کے ساتھ سڑکیں بھی خراب ہوتی ہیں۔نگراں حکومتوں سے متعلق سوال پر میئر کراچی نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں نگراں حکومت کا تصور نہیں، صرف پاکستان میں ایسا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال ترقیاتی منصوبوں کے آغاز اور تکمیل کا سال ہے جبکہ اب تیاری یہ ہے کہ عام انتخابات جلد از جلد ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں