حلیم عادل شیخ 18

سردار عطااللہ مینگل نے اصولوں اور قومی وقار کی سیاست کی، جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں، حلیم عادل شیخ

کراچی(رپورٹنگ آن لائن) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سردار عطااللہ مینگل نے اصولوں اور قومی وقار کی سیاست کی، جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں،کراچی کے عوام نے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی سیاست مسترد کردی، جعلی مینڈیٹ والی اسمبلیوں کو قومی فیصلوں کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

بزرگ بلوچ رہنما سردار عطااللہ خان مینگل کی پانچویں برسی کے موقع پر کراچی پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سردار عطااللہ مینگل نے اصولوں اور قومی وقار کی سیاست کی، ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ بلوچستان میں اصولوں کی سیاست کرنے والے چند ہی لوگ باقی رہ گئے ہیں، آج وہاں اصولوں کے بجائے مفادات اور خرید و فروخت کا بازار گرم ہے، سینیٹ اور حکومتوں میں بلوچستان کے عوام کے حقیقی نمائندے نظر نہیں آتے۔ جو لوگ اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں وہی حقیقی سیاسی رہنما ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سردار عطااللہ مینگل جس سیل میں قید رہے، انہیں بھی اسی سیل میں قید رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔

آج پریس کلب بھی آزادانہ اظہار رائے کی وہ جگہ نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی، پریس کلب کو سیل کرنا اور صحافیوں کو روکنا جمہوریت کیلئے خطرناک ہے، بعض اوقات ہمیں پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کی بھی اجازت نہیں ملتی۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر نے کہا کہ کراچی کے عوام نے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ کراچی کے عوام نے 2024 کے انتخابات میں تحریک انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا، شہر کی نمائندگی فارم 45 پر کامیاب ہونے والے حقیقی عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ عوام نے عمران خان کے نظریے اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔ کراچی کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا، اس شہر کا مینڈیٹ عوام کے پاس ہے اور کراچی کے عوام اپنے حقیقی نمائندوں کو پہچانتے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ پر بننے والی اسمبلیوں کو قومی فیصلوں کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ سندھ کے عوام نے نہروں کے منصوبے کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا ہے، عوام کو سندھ دشمن نہری منصوبے کی منظوری کے معاملے پر اصل حقائق بتانا ہوں گے۔

عارف علوی نے بطور صدر سندھ دشمن نہری منصوبوں کی مخالفت کی تھی، جبکہ نہری منصوبے کے خلاف تحریک انصاف سمیت تمام جماعتوں نے سندھ کے عوام کے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ نہری منصوبے کی منظوری کی اصل ذمہ داری آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی پر عائد ہوتی ہے۔ آج کچھ لوگ انقلابی بن کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جو سندھ کے حقوق کا دشمن ہے وہ پاکستان کے مفادات کا بھی دشمن ہے، مضبوط صوبے ہی مضبوط اور مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے عدلیہ کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا، آج عدلیہ آزاد نہیں اور آئین کی بالادستی شدید متاثر ہوچکی ہے۔ آئین کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والوں نے ہی آئین کو کمزور کیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے مل کر ملک میں آئین اور جمہوریت کو نقصان پہنچایا، دونوں جماعتیں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں 18 سال کے دوران کھربوں روپے آئے، لیکن عوام کو بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ سندھ کے عوام پوچھتے ہیں کہ 18 سال میں آنے والے اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے؟ پیپلز پارٹی کا نعرہ ”مرسوں مرسوں” کے بجائے ”تعلیم نہ ڈسوں، صحت نہ ڈسوں، امن و امان نہ ڈسوں” ہونا چاہیے، کیونکہ سندھ کے عوام کو تعلیم، صحت، امن اور بہتر سڑکیں تک فراہم نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے بڑھانا ہے تو آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی بحال کرنا ہوگی۔

تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے، ہر سیاسی مسئلے کا جواب گرفتاری یا گولی نہیں ہونا چاہیے، سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بجائے سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے۔حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجہ کے سندھ کے دورے پر عوام نے بھرپور استقبال کیا۔ سندھ کے عوام نے مختلف مقامات پر نکل کر پیپلز پارٹی کی مبینہ کرپشن اور ناانصافی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں