وزیر خزانہ 38

زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں سے معاونت لینے کے امکانات پر غور کر رہا ہے، وزیرخزانہ

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)وزیرِخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے پاکستان مختلف ممالک اور مالیاتی اداروں سے معاونت لینے کے امکانات پر غور کر رہا ہے، پاکستان پہلی بار پانڈا بانڈ جاری کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈکا بورڈ اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز تک پاکستان کیلئے قرض کی نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے۔

آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر واشنگٹن میں بلومبرگ اوربرطانوی خبررساں ادارہ رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ جو بھی مالی خلا پْر کرنا ہوگا وہ مختلف ذرائع سے پورا کیا جائے گا، جن میں کمرشل قرضے اور دوطرفہ مالی معاونت شامل ہیں،ہم تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ فروری کے آخر میں ایران پر امریکی واسرائیلی حملے سے پہلے پاکستان کے مالی اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط تھے، پاکستان قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کے حوالہ سے پراعتمادہے،وزیرخزانہ نے کہاکہ ہم ادائیگی کے لیے پْرعزم ہیں اور یہ یقینی بنائیں گے کہ ذخائر کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے دیگر وسائل بھی دستیاب ہوں۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان کا رواں سال عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کا ارادہ ہے اور چار سال کے وقفے کے بعد یوروبانڈز جاری ہوں گے،ہم یوروبانڈز، اسلامی سکوک اور ڈالر میں طے شدہ مگر روپے سے منسلک بانڈز کا امتزاج استعمال کریں گے۔

حکومت جلد ہی ان بانڈز کے لیے لیڈ مینیجرز کے انتخاب کا عمل شروع کرے گی۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پہلی بار چینی کرنسی میں بانڈز ( پانڈا بانڈز)جاری کرنے کی بھی تیاری کر رہا ہے، جو دوسری سہ ماہی میں متوقع ہیں۔ اس عمل میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کریڈٹ سپورٹ فراہم کریں گے۔۔ ابتدائی اجرا 25 کروڑ ڈالر کا ہوگا، جو مجموعی ایک ارب ڈالر کے منصوبے کا حصہ ہے پاکستان کو امید ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جلد ہی بشمول ماحولیاتی استحکام کے فنڈ کے تحت ادائیگیاں اور 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی اگلی قسط کی منظوری دے گا، جس سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔فی الحال حکومت تیل کی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود اس پروگرام میں کسی اضافے یا پیشگی ادائیگی کی درخواست دینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔انہوں نے کہاکہ اگر ہمیں معیشت کے حوالہ سے بڑا خطرہ محسوس ہوا تو ہم آئی ایم ایف سے بات کریں گے، لیکن اس وقت ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان اپنے تمام قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سطح کو برقرار رکھنا آنے والے وقت میں ہماری مجموعی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہوگا۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا بورڈ اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز تک قرض کی نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس سے تقریباً 1.3 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔

یہ رقم ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی اور ریزِلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے تحت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ تقریباً 4 فیصد جی ڈی پی نمو، تقریباً 41.5 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر (ریمیٹینسز) اور معاشی طورپرکمزور طبقے کے لیے ہدفی امداد جیسے عوامل رواں مالی سال میں ایران جنگ کے معاشی اثرات کو برداشت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کو ایندھن اور ایل پی جی کے اسٹریٹجک ذخائر قائم کرنا ہوں گے،صرف کمرشل ذخائر پر انحصار کم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی تیز کرنے پر فوری توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین میں شاکس واضح پیغام دیتا ہے کہ ہمیں ان تبدیلیوں کو تیزی سے آگے بڑھانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں