کراچی(رپورٹنگ آن لائن)وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئررہنما سیدمصطفی کمال نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم اچانک سامنے آسکتی ہے اور رانا ثناء اللّٰہ کو اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا، جو لوگ یہ کام کروانے والے ہیں وہ نئے صوبوں کا معاملہ بھی آگے بڑھا سکتے ہیں۔
خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ کو چاہیے کہ وہ بتائیں کہ کیا 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم بھی کابینہ میں تفصیلی بحث کے بعد سامنے آئی تھیں؟ ان کے مطابق ان ترامیم کا علم بھی کابینہ کے ارکان کو اس وقت ہوا جب ان پر ووٹ دینے کا مرحلہ آچکا تھا۔مصطفی کمال نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس حوالے سے عملی پیش رفت بھی ہوسکتی ہے۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پارٹی کو نئے صوبوں کے معاملے پر اعتراض ہے تو اسے وہاں جاکر ناراضی کا اظہار کرنا چاہیے جہاں سے یہ معاملہ شروع ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ”جو کروانے والے ہیں، وہ یہ کام بھی کروا لیں گے۔”مصطفی کمال کے تازہ بیان کے بعد نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔









