حافظ نعیم الرحمن 44

حافظ نعیم الرحمن کا عید کے بعد ملک گیر بدل دو نظام احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان

بٹ گرام( رپورٹنگ آن لائن) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے پاکستان اور استحصالی نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے، پچیس اپریل سے رابطہ عوام مہم اور عید کے بعد ملک گیر”بدل دو نظام”احتجاجی تحریک کا آغاز ہوگا۔

بٹ گرام میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مراعات یافتہ طبقہ کی عیاشیاں جاری، عوام گھنٹوں لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب برداشت کررہے ہیں، سینٹ اور اسمبلیوں میں موجودہ ارب پتیوں کو عوام کی پریشانیوں کا کوئی ادراک نہیں۔ جاگیرداروں، ظالموں، خاندانوں پر مشتمل سیاسی پارٹیوں، اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری اور سودی معیشت سے جان چھڑانے کے لیے عوام کو متحد ہوکر اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔

جماعت اسلامی کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو ملک میں عدل و انصاف پر مبنی نظام چاہتا ہے۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرزاق عباسی، امیر ضلع انور بیگ اور دیگر راہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکہ زوال کا شکار ہے، ایران پر جارحیت کے بعد امریکہ میں تریسٹھ فیصد عوام ٹرمپ کی مخالف ہوگئی ہے، یورپی یونین بھی امریکہ کے خلاف ہے، ایران پر حملہ سے قبل بلندوبانگ دعوے کرنے والا شخص اب مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔

ایرانی قیادت اور عوام کی مزاحمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اہل فلسطین اور حماس نے عظیم مزاحمت کی تاریخ رقم کی۔ پاکستان کے حکمران بھی ان سے سبق لیں اور امریکہ سے خائف رہنے کی بجائے قوم کی عزت اور غیرت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کریں، ایران،امریکہ ثالثی میں ملک و قوم کے مفادات کو مقدم رکھا جائے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر جانبدار ہوکر ثالثی کرے، عوام کو ایسی ثالثی قبول نہیں جس سے پاکستان امریکہ کی کالونی بن جائے۔ ملک میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیاں ٹرمپ کی چاپلوسی کرتی ہیں، یہ امریکہ کی غزہ میں ظلم پر اسرائیل کی پشت پناہی اور ایران پر جارحیت کی کھل کر مذمت بھی نہیں کرتیں۔ ذہنی غلام حکمران پاکستان کو آگے نہیں لے جاسکتے۔

عوام کو ان سے جان چھڑانا ہوگی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن گزشتہ سات دہائیوں میں یہاں عدل وانصاف کا نظام قائم نہیں ہوسکا۔ معیشت کا نظام سود پر مبنی ہے۔ سترہ ہزار ارب کے قومی بجٹ میں پنتالیس فیصد قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہوجاتا ہے۔ عام آدمی فی لیٹر پٹرول پر ڈیڑھ سو روپیہ ٹیکس دیتا ہے۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت انچاس سو میگاواٹ ہے لیکن ملک میں بارہ سے چودہ گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، آئی پی پیز مافیا کو نوازا جارہا ہے، ری گیسفائیڈ (ReـGassified) معاہدے ملک اور عوام کے مفادات میں نہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام میں غریب کو انصاف نہیں ملتا۔ چوالیس فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے ہے، غریب کے ساتھ زیادتی ہوجائے تو یہ عدالت سے انصاف لینے کے لیے وکیل کی فیس ادا نہیں کرسکتا، عدالتوں میں ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، چھوٹی اور بڑی عدالتوں میں تنتیس لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ غریب اور عام آدمی کے استحصال پر مبنی اس نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا۔

نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ بدل دو نظام تحریک کا حصہ بنیں، کارکن جماعت اسلامی کا پیغام ہر گلی محلے میں لے کر جائیں، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جماعت اسلامی کا ممبر بنائیں، عوامی کمیٹیاں قائم کی جائیں، عید کے بعد بڑی تحریک چلے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ صوبائی حکومتیں اختیارات پر قابض ہیں۔ پنجاب میں بدترین گورننس ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے استعمال کے لیے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا جب کہ سکولوں کو فروخت کیا جارہا ہے۔ ن لیگ شریف خاندان اور پیپلز پارٹی زرداری خاندان کا نام ہے، پی پی نے سندھ کو برباد کردیا، کراچی کابرا حال ہے۔ کے پی میں گزشتہ تیرہ برس سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے لیکن بٹ گرام میں ہی چھہتر ہزار بچے سکول نہیں جاتے، پانچ لاکھ آبادی کے شہر میں صرف ایک ڈگری کالج ہے، علاقہ میں کوئی ڈھنگ کا ہسپتال نہیں، کے پی اور بلوچستان میں امن عامہ کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی، مسئلہ نااہل حکمرانوں کا ہے۔ جماعت اسلامی ایک جمہوری جماعت ہے، اس جماعت میں ہر شخص کو آگے بڑھنے کے مواقع دستیاب ہیں، جماعت اسلامی لوگوں کو مسالک، زبان اور نسل کی بنیادوں پر تقسیم نہیں کرتی، جماعت اسلامی ہی ملک کو دلدل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں سو فیصد نشستوں پر امیدوار کھڑے کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں