لاہور (رپورٹنگ آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر میں جاری احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ 26ویں روز بھی جاری رہا۔ لاہور سمیت کراچی، کوئٹہ، پشاور، فیصل آباد، سرگودھا، اسلام آباد، راولپنڈی، سرگودھا، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں، جن میں عوام کی بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ دھرنوں میں مردوں، خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔شرکاء نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے، مہنگائی، بیروزگاری، بھاری بھرکم ٹیکسوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے جبکہ بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔جماعت اسلامی پنجاب کے امیرمحمد جاوید قصوری نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل نئے ٹیکس عائد کر رہے ہیں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا غریب اور متوسط طبقہ مہنگائی کے طوفان میں پس رہا ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں جبکہ کاروباری طبقہ بھی بھاری ٹیکسوں اور معاشی بے یقینی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہے۔
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی مراعات، غیر ضروری اخراجات اور شاہانہ طرزِ زندگی کو محدود کرے۔ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور سہولیات کم کرنے کے لیے تیار نہیں، لیکن عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ ملک کے وسائل پر چند طبقات کی اجارہ داری ختم کرنا ہوگی اور معاشی نظام کو عوام دوست بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور یہ احتجاج کسی ایک طبقے یا جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کے عام شہری کا مقدمہ ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ہر شہری کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ پٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، خوراک، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ، مہنگائی پر قابو پانے اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں۔محمد جاوید قصوری نے مزید کہا کہ عوام اپنے حقوق کے لیے گھروں سے نکل چکے ہیں اور جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، جماعت اسلامی کی پرامن احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ حکمرانوں کو عوامی آواز سننا ہوگی اور محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ جماعت اسلامی ملک کے غریب، مزدور، کسان، تاجر، نوجوان اور متوسط طبقے کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
صوبائی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر بابر رشید کا کہنا تھا کہ مہنگائی، بیروزگاری، پٹرولیم قیمتوں میں اضافے اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ملک کے مختلف شہروں میں جاری دھرنوں کے باعث عوامی سطح پر بھی حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف تشویش اور بے چینی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس موقع پر قائم مقام سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان اظہراقبال حسن،ضیا الدین انصاری ،اظہر بلال، جبران بٹ، احمدسلمان بلوچ، عمران الحق و دیگر بھی موجود تھے۔









