ہائیکورٹ 14

جائیداد کے ہبہ تنازع کے مقدمے میں 8 سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ ،ڈگری کالعدم

لاہور( رپورٹنگ آن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے جائیداد کے ہبہ تنازع کے مقدمے میں 8 سال بعد اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ اور ڈگری کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس دوبارہ فیصلے کے لیے اپیلٹ کورٹ کو واپس بھجوا دیا ۔لاہور ہائیکوٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے عیداللہ حسن کی سول نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے 5 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں سنگین قانونی اور بنیادی نقائص موجود ہیں، جبکہ ہبہ نامے کی تصدیق کے لیے قانونِ شہادت کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔

عدالت کے مطابق ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ مقدمے کے بنیادی تنازع کا درست تعین کرنے میں ناکام رہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ کسی فریق کو جرح کا حق دیے بغیر اس کے خلاف بیان استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ قانونِ شہادت کے آرٹیکل 140 کے تحت جرح کے دوران متعلقہ فریق کا سامنا کرنا ضروری ہے، جبکہ آرٹیکل 79 کے تقاضے پورے کیے بغیر ہبہ نامے کی تصدیق پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ دفعہ 12(2) کے تحت دائر درخواست کے لیے کبھی وکیل مقرر نہیں کیا گیا۔

فیصلے کے مطابق وکیل کے وکالت نامے اور درخواست پر درخواست گزار کے دستخطوں کی تصدیق بھی نہیں کرائی گئی۔عدالت نے ہدایت کی کہ فریقین کا مقف سننے کے بعد قانون کے مطابق دوبارہ فیصلہ کیا جائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ دھوکہ دہی یا فراڈ کے ذریعے حاصل کیے گئے فیصلوں پر قانونِ شہادت کے آرٹیکل 58 کا اطلاق ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں