عاصم افتخار 16

توانائی سپلائی کی رکاوٹیں برقرار رہیں تو معاشی مشکلات طویل ہوں گی، پاکستان

نیویارک (رپورٹنگ آن لائن) اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے کہا ہے کہ اگر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے رکاوٹوں کی صورت حال برقرار رہی تو اس سے معاشی ترقی متاثر ہو گی اور وسیع پیمانے پر طویل المدتی معاشی مشکلات پیدا ہوں گی۔

اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ حالیہ عالمی توانائی اور سپلائی میں آنے والی رکاوٹوں کے اثرات دنیا کے ہر خطے اور ہر معیشت میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے انسانی اثرات بہت زیادہ ہیں اور مسلسل بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں 2025 کی اوسط کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جبکہ مزید تین کروڑ 20 لاکھ افراد کے غربت میں جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ان کے مطابق وہ ممالک جو مغربی ایشیا میں جاری بحران میں براہِ راست شامل نہیں ہیں، وہ بھی اس کے اثرات برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اس تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں ایسے وقت میں کفایت شعاری کے اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں جب ان کی عوام کو سب سے زیادہ سہارا دینے کی ضرورت ہے، اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو اس سے معاشی ترقی متاثر ہوگی اور وسیع پیمانے پر طویل المدتی معاشی مشکلات پیدا ہوں گی۔

عاصم افتخار احمد کے مطابق چونکہ پاکستان کو اس خطے سے توانائی کی فراہمی پر زیادہ انحصار ہے، حالیہ رکاوٹوں کی وجہ سے ایندھن کی اچانک کمی، قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس کا بوجھ لاکھوں گھروں پر پڑ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سولر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور اس کی ترقی نے اس توانائی کے جھٹکے کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے، تاہم اس کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ خوراک کے تحفظ کے حوالے سے بھی نہایت سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو بڑے پیمانے پر روک دیا ہے جب کہ واشنگٹن نے تہران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جس سے دنیا بھر کے کئی علاقوں میں ایندھن کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

اس جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ایندھن کی بچت کے لیے ورک فرام ہوم، مارکیٹس کو جلد بند کرنے سمیت کئی دیگر اقدامات لیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں