کراچی(رپورٹنگ آن لائن) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یومِ اشارتی زبان پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بہرے افراد کے انسانی حقوق کا تحفظ اور انہیں مساوی مواقع کی فراہمی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 23 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ اشارتی زبان منایا جاتا ہے، اس سال دن کی تھیم ”بہرے افراد کے انسانی حقوق کا اعلان” ہے۔ اشارتی زبان بہرے افراد کیلئے رابطے کے ساتھ ساتھ شناخت، تعلیم، ثقافت اور انسانی حقوق کا بنیادی ذریعہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت خصوصی افراد کو تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور معاشرے میں بااختیار بنانے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ سندھ کے خصوصی تعلیم کے مراکز میں 49 ڈیجیٹل کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں جبکہ خصوصی تعلیم کیلئے 20 سیٹلائٹ اسکولز کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بہرے طلبہ کی بہتر تعلیم کیلئے اشارتی زبان کے اساتذہ کی تربیت کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی افراد کیلئے ہنرمندی اور فنی تربیت کے مواقع بڑھانے کے ساتھ سندھ کے مختلف ڈویڑنز میں سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے جا رہے ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بہرے افراد کو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول اور محفوظ سفری سہولتوں میں بھی سندھ حکومت معاونت فراہم کر رہی ہے۔ پاکستان میں 948 پاکستان سائن لینگویج علامات پر قومی اتفاق رائے قائم کیا گیا ہے جبکہ بہرے افراد کی میڈیا تک رسائی کیلئے ایکٹ 2022 بھی اہم قانونی قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنونشن میں اشارتی زبان کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ 2026ئ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال بھی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بہرے افراد کے حقوق کے مکمل نفاذ کیلئے عملی اقدامات تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ”کچھ بھی ہمارے بارے میں، ہمارے بغیر نہیں” کے اصول کے تحت بہرے افراد کی بامعنی شرکت یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت بہرے افراد سمیت تمام خصوصی افراد کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے، اشارتی زبان کے فروغ سے تعلیم، روزگار، صحت اور عوامی خدمات تک بہرے افراد کی رسائی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔









