اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت کی پہچان پوری دُنیا میں ایک فاشسٹ اور ہندوانتہا پسند ملک کے طور پر ہو چکی ہے جہاں مسلمانوں سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں پر ظلم و تشدد کیا جارہاہے اور ہندو انتہا پسند دہشت گرد کھلے عام مجموںمیں بغیر کسی روک ٹوک کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی پر عوام کو اُکسا رہے ہیں۔
اُنہوںنے کہاکہ ایسے حالات میں دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے جھوٹے دعوے دار بھارت کے لیے ایک شرم کا مقام ہے کہ ایک طرف تو بھارت ایک ہندو انتہا پسند ریاست بننے کے راستے پر گامزن ہے تو دوسری جانب عالمی دُنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کے لیے یوم جمہوریہ کا ڈرامہ رچارہا ہے ۔اُنہوںنے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا غیر قانونی قبضے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے غیر قانونی اور کالے قوانین کا سہارا لے رہا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی کا سلسلہ بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رکھے ہوئے ہے ۔
اُنہوںنے کہاکہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف کشمیری عوام بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ ہر سال بھارت یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم و تشدد کے سلسلے کو مزید بڑھا دیتاہے تاکہ کشمیریوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر بھارت کا سیاہ چہرہ بے نقاب کرنے سے روکا جاسکے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام عزم و استقامت کی مثال بن چکے ہیں اور وہ بھارت کی کسی بھی قسم کی ریاستی دہشت گردی کو ملحوظ خاطر لائے بغیر اپنی حق خود ارادیت کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اُنہوںنے کہاکہ ہندو انتہا پسند ی کے جس راستے پر بھارت گامزن ہے وہ نہ صرف اس پورے خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود بھارت کے وجود کو بھی سخت خطرہ لاحق ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت ہندو انتہا پسندی اور تشدد کے راستے کو ترک کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دے اور بھارت میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرے۔
اُنہوںنے عالمی دُنیا سے اپیل کی کہ بھارت کو اس کے انتہا پسندرویے سے باز رکھنے کے لیے اس کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور کشمیریوںکو اُن کا حق خود ارادیت دلوایا جائے تاکہ خطے میں دیر پا امن کی بنیاد رکھی جاسکے۔









