رافیل گروسی 18

ایرانی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا مشکل مگر ناممکن نہیں،رافیل گروسی

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ایک مشکل عمل ضرور ہے لیکن یہ ناممکن نہیں۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایران کے پاس 440 کلوگرام یورینیم موجود ہے جسے 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کا آپریشن آسان نہیں کیونکہ یہ مواد گیس کی شکل میں ہوتا ہے، انتہائی حساس اور آلودگی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کی منتقلی ایک پیچیدہ اور تکنیکی عمل بن جاتی ہے۔

رافیل گروسی نے کہا کہ متبادل راستہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ افزودہ یورینیم کو کم درجہ افزودگی والی شکل میں تبدیل کر دیا جائے تاکہ اس کی حساسیت اور ممکنہ استعمال کی نوعیت کم ہو جائے، تمام امکانات پر مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور یہی وہ امور ہیں جن پر فریقین غور کر رہے ہیں۔

رافیل گروسی کا کہنا تھا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی براہ راست مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں ہے تاہم انہوں نے بتایا کہ وہ تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ الگ الگ رابطے میں ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ادارے کا کردار ممکنہ معاہدے کو قابل عمل اور مؤثر بنانے میں معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ کسی بھی متفقہ حل پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں