عباس عراقچی 18

ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تصادم کا خدشہ ظاہر کر دیا

تہران(رپورٹنگ آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ فوجی تنازع شروع ہونے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خطے کے کسی ایک ملک میں جنگ چھڑنے کی صورت میں امن کا قیام ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا ایسا جواب دیا جائے گا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ایران کے چیف مذاکرات کار باقر قالیباف کے مطابق ایران اب ایک آزاد اور طاقتور علاقائی قوت بن چکا ہے اور ملک کی تقدیر کا فیصلہ غیرملکی طاقتیں نہیں کرسکتیں۔

پارلیمانی سپیکر باقر قالیباف نے امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کرے، دھمکیاں دینا بند کرے اور اپنے وعدے پورے کرے۔قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جرمن نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ایرانی عوام کو امریکا پر اعتماد نہیں اور ملک کے دفاع کیلئے پوری قوت کے ساتھ تیار رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی اور نہ ہی سفارت کاری کے دروازے بند کیے ہیں، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم امریکا ایران سے مکمل سرنڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے کوئی ایرانی قبول نہیں کرے گا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران پر دو حملوں نے ثابت کیا کہ واشنگٹن سفارت کاری کے حوالے سے سنجیدہ نہیں، اس کے باوجود تہران امن کے حصول کیلئے سفارتی ذرائع استعمال کرنے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں