ممبئی (رپورٹنگ آن لائن)بالی ووڈ کی معروف اداکارہ جیا بچن نے امیتابھ بچن کے ساتھ اپنے تعلقات کے ابتدائی دنوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ جب میں نے پہلی مرتبہ امیتابھ بچن کو دیکھا تو مجھے خطرہ محسوس ہوا تھا۔جیا بچن اور امیتابھ بچن کی شادی 1973 میں ہوئی تھی اور دونوں کو ازدواجی زندگی گزارتے 5 دہائیوں سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ جیا بچن کے مطابق امیتابھ ابتدائی دنوں میں کم گو اور حد سے زیادہ حساس طبیعت کے مالک تھے، جس کے باعث انہیں سمجھنا آسان نہیں تھا۔جیا بچن نے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ میں نے امیتابھ کو پہلی مرتبہ پونا کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا میں تعلیم کے دوران دیکھا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ بعد ازاں ہم دونوں کی ملاقات فلم ساز ہری کیش مکھرجی کی فلم گڈی کے سلسلے میں ہوئی، جس میں ابتدا میں میرے ساتھ امیتابھ بچن کو بھی کاسٹ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں فلم سے الگ کر دیا گیا۔جیا بچن نے بتایا ہے کہ امیتابھ کی لوگوں کو مسلسل گھورنے کی عادت مجھے عجیب محسوس ہوتی تھی، میں سوچتی تھی کہ یہ شخص کتنا عجیب ہے اور لوگوں کو اس طرح کیسے دیکھ سکتا ہے، بعد میں مجھے احساس ہوا کہ امیتابھ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان کا انداز دوسروں پر کیا اثر ڈالتا ہے۔اداکارہ نے گفتگو میں بتایا کہ امیتابھ وہ واحد شخص تھے جو میرے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے تھے اور میں خود بھی ان کی بات ماننے پر آمادہ ہو جاتی تھی، امیتابھ مجھے براہِ راست کوئی حکم نہیں دیتے تھے، لیکن اگر وہ نرمی سے بھی کوئی بات کہتے تو میں اس پر عمل کرتی کیونکہ میں انہیں خوش رکھنا چاہتی تھی۔
جیا بچن نے امیتابھ کو ایک مشکل دوست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امیتابھ نے کبھی باقاعدہ طور پر مجھے شادی کی پیشکش نہیں کی، جس کے باعث میں طویل عرصے تک ان کے جذبات کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہی۔اداکارہ کے مطابق امیتابھ بچن ایک مرتبہ میری گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے ممبئی سے پونا تک 5 گھنٹے گاڑی چلا کر آئے، جس سے میں بے حد متاثر ہوئی، امیتابھ مجھے اکثر کانجی ورم کی ساڑھیاں بھی تحفے میں دیتے تھے، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہ مجھ پر اچھی لگتی ہیں۔









