مولانا فضل الرحمان 17

اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے ، فضل الرحمن

لاہور (رپورٹنگ آن لائن)جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی خود فیصلہ نہ کریں، کوئی زبردستی حل مسلط نہیں کیا جا سکتا۔

حماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اصل فریق ہے ۔جامعہ اشرفیہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا تھا، ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ، اسے تسلیم کرنا ممکن نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا پر ڈنڈے سے اپنی مرضی منوانا چاہتے ہیں، یہ نہ اخلاقی ہے نہ سیاسی۔

فلسطین کا مسئلہ فلسطینی عوام ہی طے کریں گے ، دو ریاستی حل کو ان پر زبردستی نہیں تھوپا جا سکتا۔ امریکا نے حماس کو لاتعلق کیا ہوا ہے حالانکہ وہ اصل فریق ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جو نیویارک میں ہورہا ہے اس میں عالمی برادری کی نمائندگی نہیں۔ شہباز شریف کے جنرل اسمبلی خطاب اور ٹویٹ میں واضح فرق ہے ، انہیں سوچنا ہوگا کہیں پاکستان اپنے بنیادی موقف سے پیچھے تو نہیں ہٹ رہا۔ وقت سے پہلے اپنے کارڈ دکھا دینا نقصان دہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر دو ریاستی حل بھی دیا جائے تو اس میں آزاد فلسطین اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس ہونا چاہیے ۔ آج عرب دنیا کمزور موقف کے باعث شکست کھا رہی ہے ۔

ٹرمپ کو نوبل نہیں بلکہ جنگ کا انعام دینا چاہیے ، وہ انسانی مجرم ہیں، لاکھوں فلسطینی شہید کرائے گئے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نہ سوچے ۔ نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے مجرم قرار دیا ہے جبکہ امریکا اس کی پشت پناہی کر رہا ہے ۔ ذاتی اندازہ ہے کہ حکمران بھارت کے خوف سے اسرائیل کے معاملے میں جھجک رہے ہیں تاکہ امریکا بھارت کی طرف نہ چلا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں