اسلام آباد ہائیکورٹ 11

احتجاج کیس، خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے بیانِ حلفی طلب

اسلام آباد (رپورٹنگ آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیانِ حلفی طلب کرلیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دے دی اور کہاکہ خیبرپختون خواہ کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ میں سماعت سے قبل خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی عباس احسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سمیت دیگر حکام عدالت پہنچے۔

سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر ابتدائی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلا نکتہ جسے عدالت کو دیکھنا چاہئے وہ اس کا دائرہ اختیار ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ کے تحت قائم ہوئی اور اس کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے افسران کو ہدایات دینا اس عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہر صوبے اور اسلام آباد کے لیے الگ ہائیکورٹس قائم کی گئی ہیں، آئین کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار اسلام آباد تک بنتا ہے، اسلام آباد صوبہ نہیں بلکہ ٹیریٹری ہے، اسی لیے اس کے لیے الگ ایکٹ بنایا گیا، عدالتی فیصلوں میں بھی یہ اصول موجود ہے کہ جس علاقے کا دائرہ اختیار ہو، اسی عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار نے اس عدالت کو پورے پاکستان کا دائرہ اختیار دے دیا ہے، اگر ایک ہائیکورٹ دوسرے صوبوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرے گی تو اٹھارویں ترمیم غیر مؤثر ہوجائے گی، پہلے عدالت یہ طے کرے کہ وہ یہ کیس سن بھی سکتی ہے یا نہیں، اس کے بعد قابل سماعت ہونے کے معاملے پر دلائل دوں گا۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے دلائل جاری رکھیں، ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق ہونے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار کیسے متاثرہ فریق ہے، ابھی تو کام ہی نہیں ہوا۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے درمیان تلخی بھی ہوئی، ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے دلائل نہیں دیے بلکہ ان کی جانب سے اٹارنی جنرل نے دلائل دیے تھے، درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میں نے دلائل دیے تھے، یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی سماعت کے آرڈر میں درخواست گزار کے وکیل کے دلائل موجود ہیں، انہیں بات کرنے دیں، بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو متعدد مرتبہ خاموش رہنے کی ہدایت بھی کی۔
دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر اسلام آباد ہائیکورٹ اس درخواست کو انٹرٹین کرے گی تو مقننہ کی دانست ہی ختم ہوجائے گی، سوموٹو اختیار ختم ہوچکا ہے، اب مفاد عامہ کی درخواستوں کے ذریعے سوموٹو کا رجحان بن رہا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ درخواست گزار نے ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ لانگ مارچ صرف ایک جماعت نہیں بلکہ متعدد جماعتیں کر رہی ہیں، جس جماعت کے خلاف کارروائی کی بات کی جارہی ہے اسے کیس میں فریق ہی نہیں بنایا گیا، اسے فریق بنایا جانا چاہئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا پارٹی لانگ مارچ کر رہی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ صرف عدالت کی معاونت کر رہے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے مشاورت کی ہے اور کیا وہ حکومت خیبرپختونخوا کے نمائندے ہیں؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے ہیں۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کی دو ٹوپیاں ہیں، ایک وزیراعلیٰ کی اور دوسری سیاسی جماعت کے رکن کی، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ اگر وہ پارٹی کے رکن نہ ہوتے تو وزیراعلیٰ کیسے بنتے، عدالت کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ کے حلف کے متعلقہ حصے بھی پڑھ کر سنائے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو آئین، قانون یا ملک کی سالمیت کے خلاف ہو۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 5 پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وزیراعلیٰ کو ریاست سے زیادہ مخلص ہونا چاہئے، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وزیراعلیٰ ریاست کے ساتھ بہت زیادہ مخلص ہیں اور انہوں نے کوئی ایسا بیان نہیں دیا جو آئین، قانون یا ریاست کے خلاف ہو۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بیان کیوں دیا؟ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی بات سیاسی جماعت سے متعلق نہیں بلکہ وزیراعلیٰ سے متعلق ہے، وزیراعلیٰ ریاست سے مخلص ہونے کا حلف لے چکے ہیں، سیاسی جلسے سے متعلق بیان پر وزیراعلیٰ خود جواب دے سکتے ہیں۔

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کے بیان کا جواب وہ خود دے سکتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ احتجاج ہمیشہ اسلام آباد کی طرف ہی کیوں آتے ہیں؟ چیف سیکرٹری نے اسے سیاسی سرگرمی قرار دیا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی بھی سیاسی سرگرمی ہے؟ عدالت نے بعد ازاں چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا سے بیان حلفی طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور پی ٹی آئی کو بھی کیس میں فریق بنانے کی استدعا کی، انہوں نے کہا کہ جن کے خلاف درخواست کے ذریعے رٹ جاری کروانا چاہتے ہیں، انہیں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز اور وزیراعظم کے معاون برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کے بعض بیانات کا بھی حوالہ دیا، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بیان دیا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان خیبرپختونخوا کو توڑنے کے لیے نہیں؟ رانا ثناء اللہ نے بھی کہا کہ ہائیکورٹ سے لانگ مارچ کے خلاف فیصلہ آئے گا، اس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ لگ رہا ہے آپ سیاسی باتیں کر رہے ہیں، ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ وہ سیاسی باتیں نہیں بلکہ حقائق بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کیس قانونی کم اور سیاسی زیادہ لگ رہا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے احتجاج اور لانگ مارچ کے دوران کنٹینرز لگانے پر بھی اعتراض کیا، ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کی بات ہوتی ہے تو شہریوں کے آنے سے پہلے ہی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں، کیا کنٹینرز رکھنا شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟ انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نوٹس لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ کے پی ہاؤس کے باہر بھی کنٹینرز لگا دیے جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ شہریوں کا وفاقی حکومت پر اعتماد ختم ہورہا ہے، انہوں نے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ دو سال سے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہورہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے جواب دیا کہ توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، کیسز کب لگنے ہیں یہ عدالت کا انتظامی اختیار ہے، آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق لگنے ہیں؟ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل کے بعض دلائل پر ریمارکس دیے کہ یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور چیف جسٹس کے درمیان بعض جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوئی غلطی ہو تو معاف کردیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غلطی معاف نہیں کرتا ہوتا، سمجھا دوں گا، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آپ بادشاہ ہیں، کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ کہنے کی ضرورت نہیں، میں بادشاہ ہوں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کے لیے ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جج کو بادشاہ کہتے ہوئے کبھی نہیں سنا۔

بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ نے روسٹرم پر آکر دلائل کا آغاز کیا، انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں کی آزادی کے سخت حامی ہیں، پنجاب میں شیلنگ ہوتے اور پولیس اہلکاروں کو شہید ہوتے دیکھا ہے، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف بیان دینے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس درخواست میں فریق نہیں اور نہ ہی وہ عدالت میں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داری اپنے صوبے کے ہر شہری کو محفوظ رکھنا ہے، انہوں نے کہا کہ کرمنل کانسپریسی جہاں ہوتی ہے وہاں کے چیف سیکرٹری اور آئی جی کی ذمہ داری بنتی ہے، ان دھرنوں سے پنجاب کا کاروبار بھی متاثر ہوا، جلوسوں میں کرینز ہوتی ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کوئی سیاسی فورم نہیں بلکہ قانونی فورم ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے درخواست کے دائرہ اختیار پر اعتراض نہیں اٹھایا اور کہا کہ عدالت جو بھی ہدایت دے گی اس پر عمل کیا جائے گا، بعد ازاں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے بھی دلائل دیئے ۔ عدالت نے سماعت کے اختتام پر خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس سے پیر تک بیان حلفی طلب کرلیا اور قرار دیا کہ ان دونوں افسران کے علاوہ دیگر افسران کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں، فریقین کو جواب الجواب جمع کرانے کی اجازت دیتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں